Main Icon

باب:پینے کی چیزوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4270

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلٰى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَهٗ صَاحِبٌ لَهٗ فَسَلَّمَ فَرَدَّ الرَّجُلُ وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ فِي شَنَّةٍ وَإِلَّا كَرَعْنَا؟ فَقَالَ: عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فِي شَنٍّ فَانْطَلَقَ إِلَى العَرِيشِ فَسَكَبَ فِي قَدَحٍ مَاءً ثُمَّ حَلَبَ عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ فَشَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَعَادَ فَشَرِبَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ مَعَهٗ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل على رجل من الأنصار ومعه صاحب له فسلم فرد الرجل وهو يحول الماء في حائط فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن كان عندك ماء بات في شنة وإلا كرعنا؟ فقال: عندي ماء بات في شن فانطلق إلى العريش فسكب في قدح ماء ثم حلب عليه من داجن فشرب النبي صلى الله عليه وسلم ثم أعاد فشرب الرجل الذي جاء معه. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری صاحب کے پاس گئے حضورکے ساتھ آپ کے ایک صحابی بھی تھے ۱؎آپ نے سلام کیا اس نے جواب دیا وہاں باغ میں پانی پھررہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تیرے پاس پانی مشکیزہ میں ہو تو لاؤ ورنہ ہم منہ سے پی لیں۲؎وہ بولا میرے پاس مشکیزہ میں باسی پانی ہے چنانچہ وہ چھبر کی طرف گیا ۳؎پیالہ میں پانی انڈیلا پھر اس پر پالی ہوئی بکری دوہی۴؎نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا پھر دوبارہ لایا پھر اس شخص نے پیا جو آپ کے ساتھ آیا تھا ۵؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎وہ صحابی حضرت ابوبکر صدیق تھے اور باغ والے ابوالہیشم تھے یا کوئی اور انصاری۔
۲
؎عربی میںکرعاس طرح پینے کو کہتے ہیں کہ اس میں ہاتھ استعمال نہ ہو یعنی نالی یا نہر سے منہ لگا کر پی لینا۔
۳
؎عریشبنا ہےعرشسے بمعنی بلندی،اصطلاح میںعریشوہ جھونپڑا ہے جو باغ یا کھیت میں گھا س یا تنکوں سے بنایا جائے اس لیے انگور کی بیل پھیلانے کے لیے جو جگہ چھت دی جاتی ہے اسےعریشکہتے ہیں بمعنیمعروشات۔قرآن کریم فرماتاہے:"مَّعْرُوْشٰتٍ
۴
؎عربی میںداجنوہ بکری کہلاتی ہے جسے گھر رکھ کر چارا دیا جائے باہر جنگل میں چرنے کے لیے نہ بھیجا جائے۔اس کا مادہدجنہے بمعنی الفت و محبت،وہ بکری جانور گھر سے الفت رکھتا ہے مالوف ہوتا ہے اس لیے اسے داجن کہتے ہیں۔
۵
؎یہ باغ والے صاحب ایک بار پانی لائے تو حضور انور نے پیا پھر دوبارہ لائے تو دوسرے صاحب یعنی حضرت ابوبکر صدیق نے پیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4270