Main Icon

باب:پینے کی چیزوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4271

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهٖ نَارَ جَهَنَّمَ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ). وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «إِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ»

وعن أم سلمة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «الذي يشرب في آنية الفضة إنما يجرجر في بطنه نار جهنم» . (متفق عليه). وفي رواية لمسلم: «إن الذي يأكل ويشرب في آنية الفضة والذهب»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص چاندی کے برتنوں میں پیتا ہے ۱؎وہ اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ کھولاتا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ جو چاندی سونے کے برتن میں کھاتا ہے۳؎

شرح حدیث

۱∞؎آنیہجمع ہےاناءکی بمعنی برتن،آنیہکے معنی ہوئے برتنوں بروزنافعلۃجمع قِلت ہے۔
۲
؎یجرجربنا ہےجرجرۃسے بمعنی شیر کی آواز،اب ہانڈی میں پانی کھولنے کی آواز کو جرجرہ کہتے ہیں یعنی چاندی کے برتنوں میں پینا آگ جہنم پیٹ میں بھرنے کا سبب ہے اس لیے اس طرح فرمایا گیا۔ خیال رہے کہ آگ خود نہیں کھولتی بلکہ پانی کو کھولاتی ہے،یہاں کھولنے ابلنے کی نسبت آگ کی طرف مجازًا ہے جیسےجری النھر۔
۳
؎تمام علماء کا اس میں اتفاق ہے کہ چاندی سونے کے برتن میں کھانا پینا،اس کے چمچے استعمال کرنا،اس کی انگیٹھی میں خوشبو سلگانا،اس کی عطر دانی سے عطر لگانا،اس کے برتن سے وضو یا غسل کرنا،اس کے برتنوں سے چھت یا گھر سجانا،اس کی گھڑی میں وقت دیکھنا،اس کے قلم سے لکھنا،مردوعورت،چھوٹے بڑے سب کو حرام ہے۔عورتوں کو چاندی سونے کے صرف زیور پہننے کی اجازت ہے باقی دیگر استعمال ان کو بھی ویسے ہی حرام ہے جیسے مردوں کو حرام ہے۔بعض لوگوں نے کہا ہے کہ امام شافعی کا قول قدیم یہ تھا کہ سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا مکروہ ہے،داؤد ظاہری کا قول ہے سونے چاندی کے برتنوں میں کچھ پینا حرام ہے ان میں کھانا یا اور طرح استعمال کرنا بالکل درست ہے مگر داؤد ظاہری کا یہ قول باطل ہے۔اس مردود کے نزدیک سؤر کا صرف گوشت حرام ہے اور اس کے کلیجی گردے حلال ہیں،ضرورت میں پھنس جانے پر ان میں سے چیز نکال کر استعمال کرے جیسے سونے کی تیل دانی سے تیل لگانا پڑ جائے تو اس سے ہتھیلی پر تیل لوٹ لے پھر اسے سر میں مل لے۔ (مرقات و اشعہ)یوں ہی سونے چاندی کی سلائی سے سرمہ لگانا حرام ہے،ہاں علاجًا سونے کی سلائی آنکھ میں پھیرنا حلال کہ یہ علاج ہے نہ کہ استعمال،یوں ہی سونے چاندی وغیرہ کا کشتہ کھانا حلال ہے کہ یہ غذا ہے یا دوا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4271