Main Icon

باب:پینے کی چیزوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4279

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنِ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ فَقَالَ رَجُلٌ: الْقَذَاةَ أَرَاهَا فِي الْإِنَاءِ قَالَ: «أَهْرِقْهَا» قَالَ: فَإِنِّي لَا أَرْوٰى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ قَالَ: «فَأَبِنِ الْقَدَحَ عَنْ فِيكَ ثُمَّ تَنَفَّسْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ

وعن أبي سعيد الخدري أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن النفخ في الشراب فقال رجل: القذاة أراها في الإناء قال: «أهرقها» قال: فإني لا أروى من نفس واحد قال: «فأبن القدح عن فيك ثم تنفس» . رواه الترمذي والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ۱؎تو ایک شخص نے عرض کیا کہ میں برتن میں کوڑا جو دیکھوں۲؎فرمایا اسے بہا دو۳؎وہ بولا میں ایک سانس میں سیرنہیں ہوتا۴؎فرمایا کہ یہ پیالہ اپنے منہ سے الگ کرلو پھر سانس لے لو ۵؎(ترمذی،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎اس ممانعت کی حکمتیں ابھی عرض کی گئیں۔پھونک مارنا پانی میں ہو یا دودھ میں یا کسی اور پینے کی چیز میں،پھر خواہ ٹھنڈا کرنے کے لیے ہو یا تنکا وغیرہ دور کرنے کے لیے اور خواہ پانی میں پھونک مارے یا کھانے میں سب ممنوع ہے۔چنانچہ طبرانی کی روایت میں ہےعن النفخ فی الطعام والشراب۔
۲
؎یعنی اگر برتن میں کوڑا تنکا نظر آئے تو میں کیا کروں وہ تو پھونک سے ہی دفع ہوسکتا ہے اور آپ حضور پھونک سے منع فرماتے ہیں۔
۳
؎اس طرح کہ برتن سے تھوڑا پانی گرادو جس سے وہ کوڑا بھی گر جائے یا چمچہ یا کسی تنکے سے الگ کردو بہرحال پھونک نہ مارو۔
۴
؎سائل کا مقصد یہ ہے کہ آپ برتن میں پھونک مارنے سے منع فرماتے ہیں اور میں ایک سانس میں پانی وغیرہ سے سیر نہیں ہوتا دوسری تیسری سانس ضرور لینا پڑتی ہے وہ سانس برتن ہی میں لی جاوے گی تو پھر پھونکنا ہوگیا۔
۵
؎جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ چند سانسوں میں ہو مگر سانس برتن میں نہ لو برتن منہ سے ہٹا کرلو۔خیال رہے کہ تین سانس سے پینا بہتر ہے ایک سانس سے پینا جائز۔(مرقات)حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایک سانس سے نہ پیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4279