Main Icon

باب:پینے کی چیزوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4269

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ: أَنَّهٗ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ قَعَدَ فِي حَوَائِجِ النَّاسِ فِي رَحَبَةِ الْكُوفَةِ حَتّٰى حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ ثُمَّ أُتِيَ بِمَاءٍ فَشَرِبَ وَغَسَلَ وَجْهَهٗ وَيَدَيْهِ وَذَكَرَ رَأْسَهٗ وَرِجْلَيْهِ ثمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَهٗ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ أُنَاسًا يَكْرَهُونَ الشُّرْبَ قَائِمًا وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن علي: أنه صلى الظهر ثم قعد في حوائج الناس في رحبة الكوفة حتى حضرت صلاة العصر ثم أتي بماء فشرب وغسل وجهه ويديه وذكر رأسه ورجليه ثم قام فشرب فضله وهو قائم ثم قال: إن أناسا يكرهون الشرب قائما وإن النبي صلى الله عليه وسلم صنع مثل ما صنعت. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے کہ انہوں نے ظہر ادا کی پھر لوگوں کی حاجتوں کے لیے کوفہ کے صحن میں بیٹھے ۱؎حتی کہ نماز عصر آگئی پھر پانی لایا گیا تو آپ نے پیا ۲؎اور اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے اور سر اور پاؤں کا ذکر کیا ۳؎پھر کھڑے ہوئے تو بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پیا پھر فرمایا کہ لوگ کھڑے ہوکر پینے کو ناپسند کرتے ہیں حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اسی طرح جیسا میں نے کیا ۴؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎رحبہ ر کے فتح سے بمعنی فضا یا کھلی جگہ،کوفہ کی جامع مسجد کے صحن میں ایک خاص چبوترہ تھا جہاں بیٹھ کر حضرت علی مرتضیٰ لوگوں کے مقدمات طے فرماتے اسے رحبۃ کہتے تھے وہ جگہ اب بھی موجود ہے اور اس پر ایک محراب بنادی گئی ہے جسے محراب علی کہتے ہیں۔فقیر نے اس کی زیارت کی ہے یعنی حضرت علی نماز کے بعد اس عدالت کے چبوترہ پر تشریف فرما ہوئے۔
۲
؎یہ پینا پیاس دفع کرنے کے لیے تھا اس وقت آپ کو پیاس تھی مگر اس بار بیٹھ کر پیا پھر وضو کیا تاکہ معلوم ہوا کہ پس خوردہ پانی سے وضو جائز ہے۔بعض شارحین نے اس کے معنی یہ کیے کہ وضو میں کلی کی کلی کا پانی بجائے اگلنے کے نگل لیا وہ یہاں مراد ہے مگر پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں کہ پینا علاوہ وضوکے تھا وضو کے بعد ہوا۔
۳
؎یعنی باقاعدہ وضو کیا بعض اعضاء وضو کا ذکر ہے اور پورا وضو مراد ہے جیساکہ ظاہر ہے۔
۴
؎یعنی لوگ سمجھتے ہیں پانی کھڑے ہوکر مطلقًا ممنوع ہے حالانکہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ حضور نے وضو کا پانی کھڑے ہوکر پیا۔معلوم ہوا کہ وضو کا پانی کھڑے ہوکر پینا سنت ہے یا یہ مطلب ہے کہ کھڑے ہوکر پینا مطلقًا ممنوع نہیں بلکہ جائز ہے میں نے حضور انور کو کھڑے ہوکر پانی پیتے دیکھا ہےمگر پہلے معنی زیادہ موزوں ہیں۔ابھی ہم نے عرض کردیا کہ پانی کھڑے ہوکر پینا حرام نہیں،ہاں بہتر یہ ہے کہ بیٹھ کر پئے اور چند پانیوں کا کھڑا ہوکر پینا مستحب ہے: ایک آبِ زمزم،دوسرے بعض وضو کا بچا ہوا پانی، تیسرے بزرگوں کا پس خوردہ پانی۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ حضرت علی،سعد ابن ابی وقاص،ابن عمر،عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہم اجمعین کھڑے ہوکر پانی پینا درست فرماتے ہیں مگر حق یہ ہے کہ تمام فقہاء وہی جائز کہتے ہیں صرف مستحب یہ ہے کہ بیٹھ کر پیئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4269