Main Icon

باب:پینے کی چیزوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4268

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عباس قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم بدلو من ماء زمزم فشرب وهو قائم(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آبِ زمزم کا ڈول لایا تو آپ نے کھڑے ہوکر پیا ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ بھی سنت ہے کہ آبِ زمزم کھڑے ہوکر پئے تعظیم کے لیے۔اس پانی کی دو وجہ سے تعظیم ہے: ایک یہ کہ یہ پانی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑی سے پیدا ہوا۔دوسرے یہ کہ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب شریف ملا ہوا ہے کہ ان حضور سرکار نے ایک بار زمزم شریف پی کر باقی پانی کنوئیں میں ڈال دیا۔بعض شارحین نے فرمایا اژدہام کی وجہ سے وہاں بیٹھنے کی جگہ نہ تھی اس لیے کھڑے ہوکر پیا یہ غلط ہے کہ آبِ زمزم ہمیشہ کھڑے ہوکر پینا چاہیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4268