Main Icon

باب:پینے کی چیزوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4275

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عمَرَ قَالَ: كُنَّا نَأْكُلُ عَلٰى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَمْشِي وَنَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ غَرِيبٌ

عن ابن عمر قال: كنا نأكل على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نمشي ونشرب ونحن قيام. رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي وقال الترمذي : هذا حديث حسن صحيح غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چلتے پھرتے کھاتے تھے اور کھڑے کھڑے پیتے تھے ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن بھی ہے صحیح بھی اور غریب بھی ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہم بعض صحابہ زمانہ نبوی میں کبھی چلتے پھرتے کچھ کھالیا کرتے تھے جیسے دانے چابنا یا کھجور کھانا اور کبھی کھڑے کھڑے کچھ پی لیا کرتے تھے۔ظاہر یہ ہے کہ یہ عمل حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی بغیر اطلاع کے ہوگا اگر حضور انور ملاحظہ فرماتے تو منع فرمادیتے کیونکہ چلتے پھرتے کھانا اور کھڑے کھڑے پینا ممنوع ہے،یوں گھوڑے پر سوار کھانا پینا بہتر نہیں۔(مرقات)ہوسکتا ہے کہ یہ چلتے پھرتے کھانا کھڑے کھڑے پینا کسی مجبوری و معذوری سے ہو جیسے جہاد میں بارہا چلتے پھرتے کھانا پڑتا ہے یا ایسی چیز کھائی ہو جو عمومًا چلتے پھرتے کھائی جاتی ہے جیسے دانے یا کھجوریں ورنہ کھڑے کھڑے یا چلتے پھرتے روٹی چاول وغیرہ کھانا ممنوع ہے خصوصًا جب کہ فیشن کے طور پر ہو جیسے آج کل مغرب زدہ مسلمانوں کا حال ہے کہ جانوروں کی طرح کھڑے کھڑے کھاتے ہیں محض عیسائیوں کی نقالی کرتے ہوئے۔
۲
؎یعنی یہ حدیث تین اسنادوں سے مروی ہے ایک اسناد سے حسن ہے دوسری سے غریب تیسری سے صحیح، متن ایک ہے اسناد تین۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4275