Main Icon

باب:پینے کی چیزوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4272

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ وَلَا الدِّيبَاجَ وَلَا تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلَا تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَهِيَ لَكُمْ فِي الْآخِرَةِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن حذيفة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا تلبسوا الحرير ولا الديباج ولا تشربوا في آنية الذهب والفضة ولا تأكلوا في صحافها فإنها لهم في الدنيا وهي لكم في الآخرة»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ نہ پہنو باریک ریشم نہ موٹا ریشم ۱؎اور نہ پیو سونے چاندی کے برتن میں اور نہ کھاؤ ان کے پیالوں میں کہ یہ کفار کے لیے ہیں دنیا میں اور وہ تمہارے لیے ہیں آخرت میں ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎جس کپڑے کا تانا بانا یا صرف بانا ریشم کا ہو وہ مرد کو پہننا حرام ہے عورت کو حلال اور جس کا تانا ریشم کا ہو بانا سوت کا یا اون کا اس کا پہننا مردکو بھی حلال ہے۔ریشم سے مراد کیڑے کا ریشم ہے،دریائی ریشم یا سن کا ریشم سب کو حلال ہے کہ وہ حریرودیباج نہیں۔
۲
؎یعنی کفار اگر سونے چاندی کے برتنوں میں کھائیں تم انہیں نہ روکو نہ ان سے لڑو مگر ان کی دیکھا دیکھی تم نہ پہنو تمہارے واسطے سونا چاندی جنت میں تیار ہےان شاءاللهخوب استعمال کرنا، اس ممانعت میں لاکھوں حکمتیں ہیں۔اگر مسلمان مردوں نے سونے چاندی کے زیور پہننا شروع کردیئے تو تلوار و بندوق سے جہاد کون کرے گا،مسلمان کا زیور علم اور ہتھیار ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4272