Main Icon

باب:پینے کی چیزوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4282

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ أَحَبُّ الشَّرَابِ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُلْوَ الْبَارِدَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا

وعن الزهري عن عروة عن عائشة قالت: كان أحب الشراب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الحلو البارد. رواه الترمذي وقال: والصحيح ما روي عن الزهري عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا

حدیث ترجمہ

روایت ہے زہری سے وہ عروہ سے ۱؎وہ حضرت عائشہ سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب ترین شربت ٹھنڈا میٹھاتھا۲؎(ترمذی)اور فرمایا صحیح وہ ہے جو بروایت زہری نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلًا مروی ہو۳؎

شرح حدیث

۱∞؎امام زہری بھی تابعی ہیں اور عروہ ابن زبیر ابن عوام بھی تابعی ہیں۔ابن شہاب فرماتے ہیں کہ عروہ علم کے دریا ناپیدا کنار ہیں۔(مرقات)
۲
؎یعنی عمومًا ٹھنڈا میٹھا پانی پسند فرماتے تھے،دودھ کی لسی بھی پسندتھی مگر وہ کبھی کبھی ملاحظہ فرماتے تھے لہذا یہ حدیث ان احادیث کی خلاف نہیں جن میں ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی میں دودھ ملا ہوا پسند تھا یا شہد سے میٹھا کیا ہوا پانی مرغوب تھا کہ وہ خاص حالات کا ذکر ہے اور یہاں عام حالات کا۔
۳
؎اس لیے کہ سفیان ابن عیینہ کے سوا باقی تمام محدثین نے اسے عن الزہری عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم روایت کیا،صرف سفیان ابن عیینہ نے عن عروہ عن عائشہ کی زیادتی کی ہے مگر ثقہ کی زیادتی مقبول ہے،نیز امام احمد نے اور حاکم نے اپنی مستدرک میں اسے بروایت عائشہ صدیقہ روایت فرمایا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4282