Main Icon

باب:پینے کی چیزوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4274

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: أُتِىَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهٖ غُلَامٌ أَصْغَرُ الْقَوْمِ وَالْأَشْيَاخُ عَنْ يَسَارِهٖ فَقَالَ:يَا غُلَامُ أَتَأْذَنُ أَنْ أُعْطِيَهُ الأَشْيَاخَ؟ فَقَالَ: مَا كُنْتُ لِأُوثِرَ بِفَضْلٍ مِنْكَ أَحَدًا يَا رَسُولَ اللّٰهِ فَأعْطَاهُ إِيَّاهُ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَحَدِيثُ أَبِيْ قَتَادَةَ سَنَذْكُرُ فِي بَابِ الْمُعْجِزَاتِ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰى

وعن سهل بن سعد قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم بقدح فشرب منه وعن يمينه غلام أصغر القوم والأشياخ عن يساره فقال:يا غلام أتأذن أن أعطيه الأشياخ؟ فقال: ما كنت لأوثر بفضل منك أحدا يا رسول الله فأعطاه إياه (متفق عليه)وحديث أبي قتادة سنذكر في باب المعجزات إن شاء الله تعالى

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک پیالہ لایا گیا آپ نے اس سے پیا اور آپ کے داہنے ایک لڑکا تھا قوم میں سب سے چھوٹا ۱؎اور بوڑھے لوگ حضور کی بائیں طرف تو فرمایا اے لڑکےکیا اجازت دیتا ہے کہ ہم یہ بوڑھوں کو دے دیں ۲؎وہ بولا میں آپ کے پس خوردہ کے لیے کسی کو ترجیح نہیں دوں گایا رسول اللہ ۳؎چنانچہ حضور نے وہ پیالہ اس کو عطا فرمایا ۴؎(مسلم، بخاری)اور ابوقتادہ کی حدیثان شاء اللهہمباب المعجزاتمیں بیان کریں گے ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎وہ لڑکا حضرت عبداللہ ابن عباس تھے جو بالکل نو عمر تھے رضی اللہ عنہ۔(مرقات)
۲
؎معلوم ہوا کہ یہ حق عبد ہے اگر بندہ خود اپنا حق دوسرے کو دینے پر راضی ہوجاوے تو فبہا ورنہ اس کی اجازت کے بغیر دوسرے کو نہ دیا جائے۔
۳
؎اس سے معلوم ہوا کہ دنیاوی امور میں ایثارکرنا سخاوت ہے،رب تعالیٰ فرماتاہے:"وَ یُؤْثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ"مگر اخروی امور میں ایثار نہ کرنا بخل کرنا محمود ہے،یہ بخل قابل ستائش ہے۔یہاں پانی کم نہ تھا جس کے ختم ہوجانے کا اندیشہ ہوتا بلکہ بلاواسطہ حضور کا پس خوردہ پینا مطلوب تھا جوکبھی کسی کو خوش نصیبی سے میسر ہوتا ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ اسناد جتنی چھوٹی ہو اتنی اعلیٰ اور قوی ہے اور خرقہ نبویہ جس قدر زیادہ واسطوں سے پہنچے اتنا اشرف ہوتا ہے کہ اس میں بہت برکتیں شامل ہوتی ہیں لہذا حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خلیفہ چہارم ہونا بہت ہی محبوب ہے کہ آپ کو حضور کی خلافت تین واسطوں سے پہنچی جس میں بہت برکتیں ان واسطوں کی بھی شامل ہوگئیں بہرحال یہ عمل شریف بہت ہی اعلیٰ ہے۔
۴
؎اس سے معلوم ہوا کہ حکم اور مشورہ میں فرق ہے یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن عباس کو حکم نہ دیا تھا بلکہ مشورہ فرمایا تھا کہ اگر تم اجازت دو تو ہم یہ تمہارا حق دوسرے کو دے دیں،حضرت ابن عباس نے مشورہ قبول نہ کیا بلکہ نہایت ادب و احترام اور اچھی معذرت سے اپنا حق خود لے لیا۔اس سے بہت سے مسائل شریعت و طریقت کے حل ہوتے ہیں۔
۵
؎یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں ہی تھی مگر ہم نے وہاں بیان کی۔یہ ایک طویل حدیث ہے جس کے آخر میں ہےساقی القوم اخرھم شربًاپلانے والا پیچھے ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4274