Main Icon

باب:ولیمہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3223

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا اجْتَمَعَ الدَّاعِيَانِ فَأَجِبْ أَقْرَبَهُمَا بَابًا، وَإِنْ سَبَقَ أَحَدُهُمَا فَأَجِبِ الَّذِي سَبَقَ"رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ.

وعن رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إذا اجتمع الداعيان فأجب أقربهما بابا، وإن سبق أحدهما فأجب الذي سبق"رواه أحمد وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب سے ۱؎کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب دو دعوت دینے والے جمع ہوجائیں تو ان سے قریب تر دروازے والے کی دعوت قبول کرو ۲؎اور اگر ان میں سے ایک پہلے آجائے تو پہلے کی دعوت قبول کرو ۳؎(احمد،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎ان صحابی کانام معلوم نہ ہوسکا مگر چونکہ تمام صحابہ عادل متقی ہیں اس لیے یہ نامعلومیت مضر نہیں علاوہ صحابی کے اگر اور کسی راوی کا پتہ نہ لگے تو حدیث مجہول نامقبول ہوتی ہے۔
۲
؎یعنی جب تمہارے دو پڑوسی بیک وقت دعوت دیں اور دونوں دعوتیں متعارض ہوں تو زیادہ قریبی پڑوسی کی دعوت قبول کیجئے کہ اس کا حق زیادہ ہے،اس قرب میں زیادہ دروازہ کا قرب معتبر ہے نہ کہ گھر کا قرب رب تعالٰی فرماتاہے:"وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی
۳
؎یعنی نزدیک دور کا فرق جب ہوگا،جب کہ دونوں بیک وقت آپ کو دعوت دیں لیکن اگر ان میں سے ایک آپ کے پاس پہلے پہنچ جائے دوسرا بعد میں تو پہلے کی دعوت قبول کیجئے کہ پہلا مقدم ہے اور حقدار ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3223