Main Icon

باب:ولیمہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3216

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَليمَةِ فَلْيَأْتِهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمِ:فَلْيُجِبْ عُرْسًا كَانَ أَوْ نَحْوَهُ.

وعن عبد الله بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إذا دعي أحدكم إلى الوليمة فليأتها". متفق عليه.
وفي رواية لمسلم:فليجب عرسا كان أو نحوه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداابن عمر سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی ولیمہ کی طرف بلایا جائے تو وہاں جائے ۱؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ قبول کرے،ولیمہ ہو یا اس کی مثل ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا کہ ولیمہ کی دعوت قبول کرنا واجب ہے، بعض نے فرمایا کہ فرض کفایہ ہے وہ حضرات وجوب کے لیے یہ امر مانتے ہیں مگر حق یہ ہے کہ ولیمہ ہو یا کوئی اور دعوت طعام اس کا قبول کرناسنت ہے وہاں جانا بھی سنت رہا کھانا اس کا اختیار ہے جیسا کہ آیندہ حدیث میں آرہا ہے۔ خیال رہے کہ دعوت قبول کرناواجب یا فرض کفایہ یا سنت جب ہے جب کہ کوئی مانع موجود نہ ہو ورنہ نہیں جس کا کھانا مشکوک ہو حرام کی آمدنی سے کھانے پکانے کا قوی احتمال ہو یا ولیمہ میں صرف مالدار بلائے گئے ہوں فقراء کو چھوڑ دیا گیا ہو یا دعوت میں کوئی ایذا رساں چیز موجود ہو یا دستر خوان پر گانا باجہ ہو یا وہاں شراب کے دور ہوں یا رشوت کے طور پر بلاوا ہو یا ناجنسوں کی صحبت ہو تو قبول کرنا سنت نہیں۔ صوفیاء فرماتے ہیں کہ اب اس زمانہ میں جلوت سے خلوت افضل ہے بری صحبت سے تنہائی افضل۔(از مرقات واشعہ ولمعات)
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ یہ عبارت کہ ولیمہ ہو یا اس کی مثل کسی راوی کا اپنا قول ہے جو بطور شرح شامل کیا گیا ہے۔یعنی ولیمہ،ختنہ، عقیقہ،کسی کی آمد پر دعوت یوں ہی اتفاقیہ دعوت سب ہی قبول کرنی چاہئیں،ختم فاتحہ کے کھانے فقراء کھائیں مالدار احتیاط کریں،بزرگوں کی فاتحہ کے کھانے تبرک ہیں سب کھائیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3216