Main Icon

باب:ولیمہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3221

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَفِينَةَ: أَنَّ رَجُلًا ضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا،فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: لَوْ دَعَوْنَا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا، فَدَعَوْهُ فَجَاءَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى عِضَادَتَي الْبَابِ، فَرَأَى الْقِرَامَ قَدْ ضُرِبَ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَرَجَعَ. قَالَتْ فَاطِمَةُ: فَتَبِعْتَهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا رَدَّكَ؟ قَالَ: "إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَوْ لِنَبِيِّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن سفينة: أن رجلا ضاف علي بن أبي طالب فصنع له طعاما،فقالت فاطمة: لو دعونا رسول الله صلى الله عليه وسلم فأكل معنا، فدعوه فجاء فوضع يديه على عضادتي الباب، فرأى القرام قد ضرب في ناحية البيت، فرجع. قالت فاطمة: فتبعته فقلت: يا رسول الله ما ردك؟ قال: "إنه ليس لي أو لنبي أن يدخل بيتا مزوقا رواه أحمد وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سفینہ سے ۱؎کہ ایک شخص حضرت علی بن ابی طالب کا مہمان ہوا آپ نے اس کے لیے کھانا تیار کیا ۲؎تو جناب فاطمہ بولیں کہ کاش ہم رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کو بلاتے تو آپ بھی ہمارے ساتھ کھاتے ۳؎چنانچہ آپ کو بلایا حضور تشریف لائے تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ دروازے کی چوکھٹوں پر رکھے گھر کے ایک گوشہ میں پردہ دیکھا ۴؎چنانچہ آپ واپس ہوگئے ۵؎جناب فاطمہ فرماتی ہیں کہ میں آپ کے پیچھے گئی بولی یارسول اکس چیز نے آپ کو واپس کیا فر مایا میرے لیے یا نبی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ مزین گھر میں داخل ہوں ۶؎(احمد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام رباح یا مہران یا رومان ہے جناب ام سلمہ کے غلام تھے آپ نے اس شرط پر انہیں آزاد کیا کہ تاحین حیات آپ کی خدمت کریں،یہ بولے کہ اگر آپ یہ شرط نہ بھی لگائیں تب بھی میں حضور کی خدمت کرتا جسم میرا آزاد ہوا مگر دل میرا ان کا ہمیشہ غلام رہے گا۔شعر
نال سوکھ پر چھٹ بھیا اور ہنسا کہیں نہ جائیں باندھے پچھلی پریت کی کنکر چن چن کھائیں
ایک سفر میں کوئی غازی تھک گیا تو اس کا سارا بوجھ آپ نے اٹھالیا،اپنا بوجھ اور حضور انور کا سامان،اس غازی کا سامان سب کچھ اٹھا کر چل دیئے سرکار نے فرمایا تم تو آج سفینہ یعنی کشتی ہوگئے تب سے آپ کا لقب سفینہ ہوا،اصلی نام گم ہو کر رہ گیا،جیسے جناب ابوہریرہ کا نام گم ہوگیا،شیر سے آپ ہی نے کہا تھا کہ میں رسول ا
کا غلام ہوں اور شیر کتے کی طرح آپ کے پیچھے ہولیا تھا۔
۲
؎ضافضیفسے بنا بمعنی مہمان یہ تو مدینہ منورہ ہی کا تھا یا باہر سے آیا تھا۔
۳
؎یعنی آج مہمان کی وجہ سے کھانا کچھ عمدہ پکایا گیا ہے،بہتر ہوتا کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم ہمارے ساتھ تناول فرماتے۔
۴
؎قرام باریک و نقشین پردہ کو کہتے ہیں،حضرت فاطمہ نے زیبائش کے لیے گھر کی دیوار پریہ پردہ لٹکادیا تھا۔
۵
؎یعنی دور دروازے سے ہی لوٹ گئے،گھر میں داخل نہ ہوئے کیوں؟ اظہار ناپسندیدگی کے لیے۔
۶
؎بعض علماء نے فرمایا کہ یہ پردہ نقشین تھا اور اس پر جانداروں کی تصاویر تھیں،اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم وہاں تشریف نہ لائے۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر دعوت میں کوئی ممنوع کام ہو تو نہ جائے،مگر یہ غلط ہے،اگر ناجائز پردہ ہوتا تو سرکار عالی منع فرماتے بلکہ دست اقدس سے پھاڑ دیتے پردہ سادہ تھا،جائز تھا مگر دنیاوی تکلف اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اہل نبوت کے لائق نہ تھی اس لیے منع تو نہ فرمایا عملًا ناپسندیدگی کا اظہار فرمادیا تاکہ آئندہ جناب زہرا اپنا گھر نیک اعمال سے ہی آراستہ رکھیں زینت دنیا نقصان آخرت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3221