Main Icon

باب:ولیمہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3213

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ، وَتَزَوَّجَهَا، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا، وَأَوْلَمَ عَلَيْهَا بِحَيْسٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أعتق صفية، وتزوجها، وجعل عتقها صداقها، وأولم عليها بحيس. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت صفیہ کو آزاد فرمایا اور ان سے نکاح فرما لیا ۱؎اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا ۲؎ان پر حریسہ سے ولیمہ کیا ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎بی بی صفیہ حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں تھیں،حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بھتیجی حیی ابن اخطب کی بیٹی تھیں،غزوہ خیبر میں قید ہو کر آئیں،یعنی محرم ۷ھ؁ ∞ میں پہلے کنانہ ابن ابی الحقیق کے نکاح میں تھیں جو غزوہ خیبر میں مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوا اولًا حضرت دحیہ کلبی کے حصہ میں آئیں،ان سے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے سات غلاموں کے عوض خرید لیا آپ مسلمان ہوگئیں حضور نے آپ کو آزاد فرما کر ان سےنکاح کیا تاکہ سرداریہودکی بیٹی حضرت ہارون علیہ السلام نبی کی اولادنبی ہی کے نکاح میں رہیں ۵۰؁ ∞ ہجری میں وصال ہوا مدینہ پاک میں دفن ہوئیں اس گنہگار نے قبر انور کی زیارت کی ہے رضی اللہ تعالٰی عنہا۔
۲
؎یعنی بجز آزادی کے اور کوئی مہرانہیں نہ دیا،یہ یا تو حضور کی خصوصیات سے ہے کہ آپ پر ازواج کا نہ مہر واجب ہے نہ باری مقرر کرنا لازم رب تعالٰی فرماتاہے:"وَتُــٔۡوِیۡۤ اِلَیۡکَ مَنۡ تَشَآءُ"الایہ۔یا یہ مطلب ہے کہ مہر معجل یعنی نکاح کا چڑھاوا کچھ نہ دیا یا یہ مطلب ہے کہ نکاح کے وقت مہر کا ذکر نہ فرمایا بعد میں مہر مثل دیا جیسا کہ اب بھی یہ ہی حکم ہے ورنہ عورت کا آزاد کرنا مہر نہیں بن سکتا مہر مال ہونا چاہیے رب تعالٰی فرماتاہے:"اَنۡ تَبْتَغُوۡا بِاَمْوٰلِکُمۡ"لہذا یہ حدیث نہ توقرآن کریم کے خلاف ہے نہ مذہب آئمہ کے خلاف۔
۳
؎اہلِ عرب کھجور و مکھن چھوہارے اور گھی ملا کر کھاتے ہیں اسے حیس کہا جاتا ہے آج کل اسے حریسہ بھی کہا جاتا ہے حریسہ بہت سی قسم کا ہوتا ہے۔مختلف طریقوں اور مختلف چیزوں سے بنایا جاتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3213