Main Icon

باب:ولیمہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3218

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى لَهَا الأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْفُقَرَاءُ، وَمَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللّٰهَ وَرَسُولَهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "شر الطعام طعام الوليمة يدعى لها الأغنياء ويترك الفقراء، ومن ترك الدعوة فقد عصى الله ورسوله". متفق عليه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ بدترین کھانا وہ ولیمہ کا کھانا ہے جس کے لیے مالدار تو بلائے جائیں اور فقراء چھوڑ دیئے جائیں ۲؎اور جس نے دعوت چھوڑ ی اس نے ارسول کی نافرمانی کی ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ ایسے ولیمہ میں زیادہ نام و نمود ہی ہوتا ہے للہیت نہیں ہوتی آج کل خوشی کی دعوتوں میں عمومًا امراء اور موت وغیرہ غمی کی دعوتوں میں فقیر و طلبہ بلائے جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ فقیر دعائیں کرتے ہیں کہ خدا کرے امیر مریں تاکہ ہم کو کھانا و خیرات ملے،اگر ولیمہ اور دیگر خوشی کی دعوتوں میں بھی فقراء بلائے جائیں تو یہ فقراء خوشی کی بھی دعائیں کرتے۔آج کل مشہور ہے کہ بھانڈ بھنڈ یلے مراثی،باجے والے تو خوشی کی دعائیں کرتے ہیں اور فقراء غمی کی،غرض کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ہر فرمان میں صدہا حکمتیں ہیں،بعض لوگ ان دعوتوں میں فقراء کو بھی بلاتے ہیں۔مگر انہیں سب سے پیچھے اور ذلت و خواری سے کھلاتے ہیں،یہ اور زیادہ برا ہے فقراء بھی ہمارے بھائی ہیں۔
۳
؎یہ جملہ ان علماء کی دلیل ہے جو قبول دعوت کو واجب یا فرض کہتے ہیں جمہور علماء فرماتے ہیں کہ اس سے استحباب کی تاکید مقصود ہے یا وہ شخص مراد ہے جو تکبر کی وجہ سے مسلمانوں کی دعوتوں میں شرکت نہ کرے جیسا کہ آج بعض منکرین کو دیکھا جاتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3218