Main Icon

باب:ولیمہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3224

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "طَعَامُ أَوَّلِ يَوْمٍ حَقٌّ، وَطَعَامُ يَوْمِ الثَّانِي سُنَّةٌ، وَطَعَامُ يَوْمِ الثَّالِثِ سُمْعَةٌ، وَمَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللّٰهُ بِهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "طعام أول يوم حق، وطعام يوم الثاني سنة، وطعام يوم الثالث سمعة، ومن سمع سمع الله به". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضر ت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ پہلے دن کا کھانا حق ہے دوسرے دن کا سنت ہے ۱؎اور تیسرے دن کا کھانا نام و نمود ہے ۲؎جو سنانا چاہے گا ااسے سنا دے گا۳؎(ترمذی)۴؎

شرح حدیث

۱∞؎اس جملہ کے کئی معنی ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ پہلے دن سے مراد شادی و برات کا دن ہے اور حق سے مراد مستحق ہے،یعنی برات والے دن کا کھانا مہمانوں کا حق ہے جو شرکت بارات کے لیے آئے ہیں اور دوسرے دن یعنی زفاف کے بعد ولیمہ کا کھانا سنت ہے مؤکدہ یا مستحبہ اس صورت میں حدیث بالکل واضح ہے دوسرے یہ کہ پہلے دن سے مراد زفاف کے بعد کا دن ہے اور دوسرے دن سے مراد اس دن کے بعد کا دن یعنی زفاف سے سویرے۔ دعوت ولیمہ حق درست ہے اور دوسرے دن کا کھانا بھی سنت ہے یعنی بدعت یا خلاف سنت نہیں، تیسرے یہ کہ زفاف کے سویرے کھانا دینا فرض یا واجب ہے جس میں بلاوجہ شرکت نہ کرنا گناہ دوسرے دن کا بھی کھانا سنت ہے،یہ تیسرے معنی ان کے مذہب پر ہیں جو ولیمہ کو واجب کہتے ہیں فقیر کے نزدیک پہلے معنی زیادہ قوی ہیں،چوتھے یہ کہ زفاف کے سویرے ولیمہ کا کھانا دینا برحق ہے،لیکن اگر کسی وجہ سے اس دن نہ دے سکے تو دوسرے دن دے دینا بھی سنت ولیمہ میں شامل ہے۔
۲
؎یعنی مسلسل تین دن تک کھانا دینا محض نام و نمود ہے ثواب نہیں یا زفاف کے تیسرے دن کھانا دینا سنت نہیں صرف نام و نمود ہے یہ حدیث حضرت امام مالک کی دلیل ہے کہ ان کے ہاں ولیمہ سات روز تک ہوسکتا ہے۔(از مرقات)
۳
؎یعنی جو دنیا میں محض اپنی ریا کاری کے لیے کوئی کام کرے گا تو اتعالٰی کل قیامت میں اس کو رسوا فرمائے گا،اعلان ہوگا کہ یہ ریا کار تھا،یا جو دنیا میں محض ناموری کے لیے نیکی کرے گا اس کی جزا صرف یہاں کی ناموری ہوگی قیامت میں کوئی ثواب نہ ملے گا،ثواب کے لیے اخلاص چاہیے۔
۴
؎یہ حدیث طبرانی نے حضرت ابن عباس سے نقل فرمائی اس کا مضمون یہ ہے کہ شادی میں ایک دن کھا نا سنت ہے دو دن کا کھانا افضل اور تین دن کا کھانا دکھلاوا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3224