Main Icon

باب:ولیمہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3222

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ دُعِيَ فَلَمْ يُجِبْ فَقَدْ عَصَى اللّٰهَ وَرَسُولَهُ، وَمَنْ دَخَلَ عَلَى غَيْرِ دَعْوَةٍ دَخَلَ سَارِقًا وَخَرَجَ مُغِيرًا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "من دعي فلم يجب فقد عصى الله ورسوله، ومن دخل على غير دعوة دخل سارقا وخرج مغيرا". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس کو دعوت دی جائے پھر وہ قبول نہ کرے تو اس نے ااور رسول کی نافرمانی کی ۱؎اور جو بغیر دعوت پہنچ جائے تو وہ چور ہو کر گیا ۲؎اور لٹیرا ہو کر نکلا ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جو بلاوجہ صرف تکبر کی وجہ سے دعوت قبول نہ کرے وہ نافرمان ہے لہذا حدیث بالکل واضح ہے۔
۲
؎کیونکہ جیسے چور بغیر اجازت مالک گھر میں گھس بھی جاتا مال بھی لے لیتا ہے،ایسے ہی یہ ہے۔
۳
؎سبحان اﷲ!کیسے پاکیزہ اخلاق کی تعلیم ہے کہ بلاوجہ دعوت قبول نہ کرنا تکبر شیخی ہے اور بغیر دعوت پہنچ جانا کمینہ پن ہے دونوں سے بچنا چاہیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3222