Main Icon

باب:ولیمہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3228

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِم، فَلْيَأْكُلْ مِنْ طَعَامِهِ، وَلَا يَسْأَلْ، وَيَشْرَبْ مِنْ شَرَابِهِ، وَلَا يَسْأَلْ" رَوَى الأَحَادِيثَ الثَّلَاثَة الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ" وَقَالَ: هَذَا إِنْ صَحَّ فَلِأَنَّ الظَّاهِرَ أَنَّ الْمُسْلِمَ لَا يُطْعِمُهُ وَلَا يسْقِيه إِلَّا مَا هُوَ حَلَالٌ عِنْدَهُ

وعن أبي هريرة قال: قال النبي - صلى الله عليه وسلم : "إذا دخل أحدكم على أخيه المسلم، فليأكل من طعامه، ولا يسأل، ويشرب من شرابه، ولا يسأل" روى الأحاديث الثلاثة البيهقي في "شعب الإيمان" وقال: هذا إن صح فلأن الظاهر أن المسلم لا يطعمه ولا يسقيه إلا ما هو حلال عنده

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے تو اس کا کھانا کھائے اور پوچھ گچھ نہ کرے اور اس کا پانی پئے اور پوچھ گچھ نہ کرے ۱؎یہ تینوں حدیثیں بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیں اور فرمایا کہ یہ حدیث اگر صحیح ہو تو اس لیے ہے کہ ظاہر یہ ہی ہے کہ مسلمان اسے نہ کھلائے پلائے گا مگر وہ ہی جو اس کے نزدیک حلال ہو۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی خواہ مخواہ اس سے یہ نہ پوچھو کہ یہ کھانا دودھ پانی کہاں سے آیا ہے تیری کمائی کیسی ہے،حرام ہے یا حلال ؟ کہ اس میں بلاوجہ بھائی مسلمان پر بدگمانی ہے اور صاحبِ خانہ کو ایذا رسانی۔ خیال رہے کہ مخلوط آمدنی والے کے ہاں دعوت کھانا درست ہے،اتعالٰی نے موسیٰ علیہ السلام کی پرورش فرعون کے ہاں کرائی اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی پرورش ابوطالب کے ہاں،ان حضرات نے فرعون،ابوطالب کی آمدنی کی تحقیقات نہ فرمائیں۔
۲
؎یعنی صاحبِ خانہ مسلمان ہے اور مسلمان پر اچھا ہی گمان کرنا چاہیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3228