Main Icon

باب:ولیمہ کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3214

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ،فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ، وَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ، وَمَا كَانَ فِيهَا إِلَّا أَنْ أَمَرَ بِالأَنْطَاعِ فَبُسِطَتْ، فَأُلْقِيَ عَلَيْهَا التَّمْرُ وَالأَقِطُ وَالسَّمْنُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعنه قال: أقام النبي صلى الله عليه وسلم بين خيبر والمدينة ثلاث ليال يبنى عليه بصفية،فدعوت المسلمين إلى وليمته، وما كان فيها من خبز ولا لحم، وما كان فيها إلا أن أمر بالأنطاع فبسطت، فألقي عليها التمر والأقط والسمن. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ کے درمیان تین شب قیام فرمایا ۱؎آپ پر حضرت صفیہ کا زفاف کیا جانا تھا تو میں نے مسلمانوں کو آپ کے ولیمہ کی طرف دعوت دی اس ولیمہ میں نہ روٹیاں تھیں نہ گوشت اس میں بجز اس کے اور کچھ نہ تھا کہ دسترخوانوں کا حکم دیا وہ بچھادیئے گئے۲؎پھر اس پر چھوہارے اور پنیروگھی ڈال دیا گیا۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بی بی صفیہ غزوۂ خیبر میں مسلمان ہوئیں حضور کے نکاح میں آئیں مگر زفاف وہاں خیبر میں نہ ہوا بلکہ مدینہ منورہ واپس ہوتے ہوئے کسی منزل پر ہوا،وہاں تین دن قیام رہا وہاں ہی ولیمہ ہوا۔
۲
؎انطاعجمع ہےنطعکی،نطع چمڑے کے دسترخوان کو کہتے ہیں چونکہ کھانے والے لوگ زیادہ تھے اس لیے کئی دستر خوان بچھائے گئے۔
۳
؎جنگ خیبر میں حضرت صفیہ کے بھائی باپ خاوند قتل ہوگئے تھے جب حضور انور نے انہیں آزاد فرمایا تو ان سے فرمایا کہ تم کو اختیار ہے ہمارے پاس رہو یا اپنے گھر خیبر چلی جاؤ۔آپ بولیں کہ میں تو زمانہ کفر میں تمنا کرتی تھی کہ آپ کی غلامی میں رہوں اب تو انے مجھے اسلام کی نعمت دے دی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا کہ تمہاری ایک آنکھ ہری کیوں ہے؟ بولیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک چاند میری گود میں آپڑا میں نے اپنا یہ خواب اپنے خاوند کنانہ سے بیان کیا اس نے میرے تھپڑ مارا اور بولا کہ کیا تو یثربی بادشاہ(نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم )کے پاس جانے کی خواہش مند ہے یہ اس تھپڑ کا اثر ہے(مرقات)رب تعالٰی نے ان کا یہ خواب پورا کردیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3214