Main Icon

باب:شفعہ کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2964

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَمْنَعْ جَارٌ جَارَهٗ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهٖ»
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يمنع جار جاره أن يغرز خشبة في جداره»
(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کو اپنے دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع نہ کرے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر تمہاری دیوار میں تمہارا پڑوسی کیل،کھونٹی،میخ وغیرہ گاڑنا چاہے اور تمہارا اس میں کوئی نقصان نہ ہو تو بہتر ہے کہ اسے منع نہ کرو،امام اعظم و احمد ابن حنبل کا یہی مذہب ہے کہ یہ حکم استحبابی ہے،امام شافعی وغیرہم نے اسے وجوب پر محمول کیا مگر مذہب حنفی قوی ہے کیونکہ یہی حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے صحابہ کرام پر پیش کی تو وہ حضرات اس پر خاموش ہوگئے تو جناب ابوہریرہ درضی اللّٰہ عنہ ناراض ہوکر بولے میں جانتا ہوں تم لوگ اس سے منہ پھیر چکے ہو،میں تمہارے سینوں پر ماروں گا۔معلوم ہوا کہ حضرات صحابہ نے اس کو امروجوبی نہ سمجھا ورنہ اس پر عمل نہ چھوڑتے۔خیال رہے کہ فی زمانہ پڑوسی دوسرے کی دیوار میں کیل گاڑکر دیوار کے دعویدار بن جاتے ہیں اس لیے احتیاط چاہیے کہ یہ بھی ایک قسم کا نقصان ہے اور نقصان کی صورت میں منع کرنا بلاکراہت جائز ہے۔ صاحب کتاب یہ حدیث اس باب میں اس لیے لائے تاکہ معلوم ہوکہ پڑوسی کو شفعہ کی طرح دیوار میں کیل گاڑنے کا بھی حق ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2964