Main Icon

باب:شفعہ کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2971

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: إِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ فِي الْأَرْضِ فَلَا شُفْعَةَ فِيهَا.وَلَا شُفْعَةَ فِي بِئْرٍ وَلَا فَحْلِ النَّخْلِ. رَوَاهُ مَالِكٌ

عن عثمان بن عفان قال: إذا وقعت الحدود في الأرض فلا شفعة فيها.ولا شفعة في بئر ولا فحل النخل. رواه مالك

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عثمان ابن عفان سے فرماتے ہیں جب زمین میں حدیں مقررکردی جائیں تو اس میں شفعہ نہیں ۱؎اور نہ کنوئیں میں شفعہ ہے نہ نر کھجور میں ۲؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر مشترک زمین کو تقسیم کر کے ہر حصہ کی حدود قائم کرلی جائیں تو شرکت کا شفعہ جاتا رہا،اب اگر ہوگا تو شفعہ جوار ہوگا،اس کی بحث پہلے ہوچکی لہذا یہ حدیث شفعہ جوار کی احادیث کے خلاف نہیں۔
۲
؎اہلِ عرب مشترک باغ کے حصے فروخت کرتے تھے کبھی زمین کبھی کھجور تو فرمایا گیاکہ اگر زمین فروخت ہوئی تو شفعہ ہے لیکن اگرصرف کھجور فروخت کی تو شفعہ نہیں کہ کھجور زمین نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی صرف عمارت فروخت کرے نہ کہ زمین تو شفعہ نہ ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2971