Main Icon

باب:شفعہ کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2970

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبدِ اللّٰهِ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً صَوَّبَ اللّٰهُ رَأْسَهٗ فِي النَّارِ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَقَالَ: هٰذَا الْحَدِيثُ مُخْتَصَرٌ يَعْنِي: مَنْ قَطَعَ سِدْرَةً فِي فَلَاةٍ يَسْتَظِلُّ بِهَا ابْنُ السَّبِيلِ وَالْبَهَائِمُ غَشْمًا وَظُلْمًا بِغَيْرِ حَقٍّ يَكُونُ لَهٗ فِيهَا صَوَّبَ اللهُ رَأسَهٗ فِي النَّارِ.

وعن عبد الله بن حبيش قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع سدرة صوب الله رأسه في النار» . رواه أبو داود وقال: هذا الحديث مختصر يعني: من قطع سدرة في فلاة يستظل بها ابن السبيل والبهائم غشما وظلما بغير حق يكون له فيها صوب الله رأسه في النار.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللّٰهابن جبیش سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جو بیری کاٹے ۱؎اللّٰهاسے اوندھے منہ آگ میں ڈالے۔(ابوداؤد)اور فرمایا یہ حدیث مختصر ہے کہ جو جنگل کی وہ بیری کاٹے جس سے مسافر سایہ لیتے ہوں اور محض ظلم و ستم سے کاٹے اس میں اس کا کوئی حق نہ ہو تواللّٰهاسے اوندھے منہ آگ میں ڈالے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎اس سے مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ کی بیری مراد ہے،حرم مکہ میں تو ہر خود رو درخت کا کاٹنا ممنوع ہے،مدینہ منورہ میں بیریاں کمیاب ہیں،نیز اس کا سایہ ٹھنڈا و مفید ہوتا ہے اس لیے خصوصیت سے بیری کا ذکر فرمایا۔
۲
؎یعنی یہ حدیث معنیً مختصر ہے اگرچہ الفاظ پورے ہیں گویا مجمل ہے قابل شرح ہے۔غشمظلم کو کہتے ہیں تو ظلمًا عطف تفسیری ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جنگل کی بیری رفاہ عام کی چیز ہے جس سے انسان و حیوان فائدے اٹھاتے ہیں،اسے ظلمًا کاٹ دینا سب پر ظلم ہے اس لیے وہ کاٹنے والا دوزخ کا مستحق ہے،سر سے مراد سارا جسم ہے۔اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ بلاضرورت مفید درخت کاٹنا ممنوع ہے اور درخت لگانا ثواب کہ جب تک لوگ اس سے فائدہ حاصل کرتے رہیں گے اسے ثواب پہنچتا رہے گا،یہ بھی صدقہ جاریہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2970