Main Icon

باب:شفعہ کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2963

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهٖ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن أبي رافع قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الجار أحق بسقبه . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو رافع سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ اپنا پڑوسی اپنے قرب کی وجہ سے حق دار ہے ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎سَقَبساورقکے زبر سے بمعنی قرب اور ملنا یعنی پڑوسی اپنے پڑوسی ہونے کی وجہ سے شفعہ کا حقدار ہے غیر پڑوسی کو اس کا حق نہیں پہنچتا۔حضرت عمر ابن شرید سے مروی ہے کہ اس فرمان عالی پر حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ سقب کیا چیز ہے؟ تو فرمایاسقبہ شفعہجب خود حضور سقب کی تفسیر شفعہ سے فرمارہے ہیں تو اس میں کسی اور تاویل کی گنجائش نہیں رہی اس لیے تمام محدثین حتی کہ امام بخاری بھی یہ حدیثباب الشفعۃمیں لائے۔لہذا یہ حدیث حنفیوں کی قوی دلیل ہے کہ پڑوسی کو حق شفعہ ملتا ہے،بعض لوگوں نے اس حدیث کے معنے یہ کیے کہ پڑوسی حسن سلوک کا مستحق ہے نہ کہ شفعہ کا وہ غلط ہیں،جب حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے خود سقب کی شرح شفعہ سے فرمائی تو اب کسی اور کی شرح کیونکر معتبر ہوسکتی ہے،ہاں اگر ایک زمین یا مکان میں کوئی شریک ہے اور دوسرا پڑوسی تو اس کا حق شفعہ شریک کو ملے گا نہ کہ پڑوسی کو یہی اس پہلی حدیث کا مطلب ہے۔(لمعات و مرقات،اشعہ وغیرہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2963