Main Icon

باب:شفعہ کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2962

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَضٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ شَرِكَةٍ لَمْ تُقْسَمْ رَبْعَةٍ أَوْ حَائِطٍ: «لَا يَحِلُّ لَهٗ أَنْ يَبِيعَ حَتّٰى يُؤذِنَ شَرِيكَهُ فَإِن شَاءَ أَخَذَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ فَإِذَا بَاعَ وَلَمْ يُؤْذِنْهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهٖ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه قال: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالشفعة في كل شركة لم تقسم ربعة أو حائط: «لا يحل له أن يبيع حتى يؤذن شريكه فإن شاء أخذ وإن شاء ترك فإذا باع ولم يؤذنه فهو أحق به » . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ہر مشترکہ زمین میں جو تقسیم نہ کی گئی ہو شفعہ کا حکم دیا گھر ہو باغ ۱؎کہ اپنے ساجھی کو خبر دیئے بغیر اسے بیچنا جائز نہیں ۲؎پھر وہ ساجھی اگر چاہے لے لے اگر چاہے چھوڑ دے اور اگر اسے بغیر خبر دیئے بیچ دیا تو وہ ہی اس کا حق دار ہوگا۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ شفعہ صرف غیر منقول چیزوں میں ہوگا جیسے گھر،باغ کھیت وغیرہ،منقولی چیز میں شفعہ نہیں جیسے جانور،سامان وغیرہ،ہاں حمام وغیرہ جو ناقابل تقسیم ہے اس میں ہمارے ہاں شفعہ ہے،شوافع کے ہاں نہیں۔
۲
؎یہ ناجائز بمعنی گناہ نہیں بلکہ بمعنی جاری نہ ہونا ہے یعنی اگر ایک شخص اپنا زمین کا حصہ بغیر ساجھی کو خبر کئے بیچ دے تویہ بیع لازم نہ ہوگی،ساجھی دعویٰ کرکے خود لے سکتا ہے۔
۳
؎یعنی ساجھی کو اس بیع کی جب بھی خبر لگے تو وہ دعویٰ کرکے یہ بیع اپنے حق میں کراسکتا ہے کہ وہی قیمت جو خریدار نے دی ہے خریدار کو ادا کردے اور زمین پر قبضہ کرلے۔اس سے معلوم ہوا کہ شفیع کا بیع کی خبر پاکر خاموش رہنا اس کے حق شفعہ کو باطل کردیتا ہے۔ضروری ہے کہ اطلاع پاتے ہی کہہ دے کہ میں اس زمین کا شفیع ہوں اور میں اسے خریدوں گا ذرا بھی خاموش رہا کہ حق شفعہ گیا، تفصیل کتب فقہ میں ہے۔حق شفعہ کا مقصد یہ ہے کہ اس کے پڑوس میں کوئی ایسا آدمی نہ آبسے جو اس کے لیے تکلیف کا باعث ہو،اچھا پڑوساللّٰهکی رحمت ہے اور برا پڑوس رب کا عذاب،اہل عرب کہتے ہیںالجار قبل الدارگھر سے پہلے پڑوسی کو دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2962