Main Icon

باب:شفعہ کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2967

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَتِهٖ يُنْتَظَرُ لَهَا وَإِنْ كَانَ غَائِبًا إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه. والدَّارِمِيُّ

وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الجار أحق بشفعته ينتظر لها وإن كان غائبا إذا كان طريقهما واحدا» . رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه. والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ پڑوسی اپنے شفعہ کا حق دار ہے ۱؎اس کا انتظار کیا جائے اگرچہ وہ غائب ہو جب کہ دونوں کا راستہ ایک ہو۲؎(احمد، ترمذی،ابوؤاد،ابن ماجہ،دارمی)۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث گزشتہ حدیث بخاری کی شرح ہے وہاںبسقبہتھا،اس حدیث نے بتایا کہ وہاںسقبسے مراد شفعہ ہے۔
۲
؎یعنی جو پڑوسی شفعہ کا حق پاتا ہے وہ ہے جس کا راستہ اور اس کے گھر کا راستہ ایک ہو،ایسا ہی پڑوسی اگر غائب بھی ہو تو اس کے پیچھے مکان زمین نہ بیچے،اس کے آنے پر خبر دےکر فروخت کرے ورنہ خریدار کو بھی تکلیف ہوگی اور اس پڑوسی کو بھی وہ مقدمہ کرے گا اور زمین واپس لے گا۔
۳
؎اس کی اسناد میںعبدالملك ابن ابی سلیمان عن عطا عن جابرہے،بعض لوگوں نے عبدالملک ابن سلیمان میں طعن کیا کہ یہ قوی نہیں مگر چونکہ حدیث بخاری سے اس کو قوت حاصل ہے لہذا حدیث قابلِ عمل ہے۔ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ حضرت امام ابو حنیفہ نے جب یہ حدیث لی تو عبدالملک اس کی اسناد میں شامل تھے ہی نہیں،اس وقت حدیث بالکل صحیح تھی،بعد کا ضعف پہلے والوں کو مضر نہیں۔(مرقات مع زیادۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2967