- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 2
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 1293
باب : قنوت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1293
نماز کا بیان - جلد 2
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنِ الْحَسَنِ: أَنَّ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ جَمَعَ النَّاسَ عَلیٰ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ عِشْرِينَ لَيْلَةً وَلَا يَقْنُتُ بِهِمْ إِلَّا فِي النِّصْفِ الْبَاقِي فَإِذَا كَانَتِ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ تَخَلَّفَ فَصَلّٰى فِي بَيْتِهٖ فَكَانُوا يَقُولُونَ: أَبَقَ أُبَيْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
عن الحسن: أن عمر بن الخطاب جمع الناس علی أبي بن كعب فكان يصلي بهم عشرين ليلة ولا يقنت بهم إلا في النصف الباقي فإذا كانت العشر الأواخر تخلف فصلى في بيته فكانوا يقولون: أبق أبي. رواه أبو داود
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت حسن سے کہ حضرت عمر ابن خطاب نے لوگوں کو ابن ابی کعب پر جمع کیا ۱∞؎کہ آپ انہیں بیس راتیں نماز پڑھاتے جن میں باقی آدھے کے علاوہ دعا قنو ت نہ پڑھتے ۲؎جب آخری عشرہ ہوتا تو رہ جاتے اپنے گھر میں پڑھ لیا کرتے ۳؎لوگ کہتے ابی بھاگ گئے ۴؎(ابوداؤد)
شرح حدیث
۱∞؎کیونکہ ابی ابن کعب ان صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے سارا قرآن شریف حفظ کیا تھا اور آپ سید القراء ہیں اسی لیئے تراویح کی جماعت کے لیئے آپ کا ہی انتخاب ہوا،آپ زمانۂ رسالت میں پورے قرآن کے حافظ تھے۔(مرقاۃ)۲؎اس حدیث کی بنا پر بعض بزرگ آئمہ فرماتے ہیں کہ وتر میں دعائے قنوت صرف آخری پندرہ رمضان میں پڑھی جائے،مگر امام اعظم کے ہاں سارا سال پڑھنی چاہیئے،یہاں قنوت سے مراد وتر کی دعائے قنوت نہیں بلکہ کفار پر کوئی خاص بددعا مراد ہے،چونکہ اس زمانہ میں جہاد بہت ہوتے تھے اس لیئے رمضان کے آخر نصف میں جس میں شب قدر بھی ہے مسلمان وتروں میں کفار کے لیئے خاص بددعا کرتے تھے۔اگر یہاں وتر کے قنوت مراد ہوں تو اس میں حسب ذیل خرابیاں لاز م ہوں گی:ایک یہ کہ یہ حدیث ان تمام احادیث کے خلاف ہوگی جن میں پورا سال قنوت پڑھنے کا ذکر ہے جیسا کہ ہم پہلے عرض کرچکے۔امام محمد نے کتاب الاثار میں بروایت امام ابوحنیفہعن حماد عن ابراھیم النخعی عن ابن مسعودروایت کی کہ آپ ہمیشہ وتر میں ہمیشہ رکوع سے پہلے قنوت پڑھتے تھے،نیز دارقطنی اور بیہقی نے سوید ابن غفلہ سے روایت کی کہ حضرات خلفائے راشدین آخر وتر میں قنوت پڑھا کرتے تھے،نیز ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ نے حضرت علی سے روایت کی کہ نبی صلی الله علیہ وسلم آخر وتر میں قنوت پڑھا کرتے تھے،امام حسن کی روایت پہلے ہی گزر چکی کہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے انہیں وتر پڑھنے کے لیئے دعائے قنوت سکھائی۔دوسرے یہ کہ اس حدیث سے دعائے قنوت صرف پانچ دن ثابت ہوگی کیونکہ حضرت ابی ابن کعب پندرھویں رمضان سے جماعت میں قنوت شروع کرتے تھے اور بیسویں کے بعد یہ جماعت چھوڑ دیتے تھے تو پانچ ہی دن قنوت رہی۔۳؎یا اس لیئے کہ تراویح چند روز جماعت سے پڑھنا پھر اکیلے پڑھنا حضورصلی الله علیہ وسلم کا عمل شریف تھا،آپ اس سنت پر عمل کرتے تھے یا اس لیئے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں خلوت میں عبادات کرتے تھے۔بعض خلوتیں جلوت سے افضل ہوتی ہیں یا کسی اور عذر کی وجہ سے۔خیال رہے کہ حضرت ابی کا یہ پہلاعمل تھا،جب حضرت عمر نے آپ کو تراویح پڑھانے کا باقاعدہ حکم دے دیا تو پورا مہینہ پڑھاتے تھے،لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔۴؎یہ لفظ حضرت ابی کی شان میں گستاخی کی نیت میں نہ تھا بلکہ افسوس کے لیئے تھا یعنی افسوس کہ ہمیں چھوڑ گئے ،رب تعالٰی حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے:"اِذْ اَبَقَ اِلَی الْفُلْکِ الْمَشْحُوۡنِ"۔(لمعات)ورنہ امام کا احترام لازم ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1293