Main Icon

باب : قنوت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1292

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مَالكٍ الْأَشْجَعِيّ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ إِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ هٰهُنَا بِالْكُوفَةِ نَحْوًا مِنْ خَمْسِ سِنِينَ أَكَانُوا يَقْنُتُونَ؟ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ مُحْدَثٌ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه

وعن أبي مالك الأشجعي قال: قلت لأبي: يا أبت إنك قد صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر وعثمان وعلي ههنا بالكوفة نحوا من خمس سنين أكانوا يقنتون؟ قال: أي بني محدث ". رواه الترمذي والنسائي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو مالک اشجعی ۱∞؎سے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا ابا جان آپ نے تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ابوبکر،عمر،عثمان،اور علی کے پیچھے اور یہاں کوفے میں حضرت علی کے پیچھے قریبًا پانچ سال ۲؎نمازیں پڑھیں ہیں کیا یہ لوگ قنوت پڑھتے تھے فرمایا بیٹے یہ بدعت ہے۳؎(ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام سعد ابن طارق ابن اشیم ہے،خود تابعی ہیں والدصحابی ہیں۔۲؎یعنی چار سال کچھ مہینے آپ کی خلافت کے بقدر۔۳؎یہ حدیث حنفیوں کی قوی دلیل ہے یعنی ہمیشہ قنوت نازلہ کسی نماز میں پڑھنا بدعت سیئہ ہے،نہ حضور انورصلی الله علیہ وسلم کا عمل نہ کسی صحابی کا۔خیال رہے کہ یہاں ہمیشہ قنوت نازلہ پڑھنا مراد ہے ورنہ علی مرتضٰی نے جنگ صفین کے موقعہ پرقنوت نازلہ پڑھی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1292