Main Icon

باب : قنوت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1291

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا ثُمَّ تَرَكَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

وعن أنس: أن النبي صلى الله عليه وسلم قنت شهرا ثم تركه. رواه أبو داود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ایک ماہ قنوت پڑھی پھر چھوڑ دی ۱∞؎(ابوداؤد,نسائي)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ساری نمازوں میں تر ک کردی۔شوافع کے ہاں اس کا مطلب یہ ہے کہ فجر کے سوا باقی چار نمازوں میں چھوڑ دی۔بہرحال چار نمازوں میں قنوت نازلہ بالاتفاق منسوخ ہے اور فجر میں اختلاف ہے،ہمارے ہاں منسوخ ہے،شوافع کے ہاں نہیں اس لیئے اگر کوئی ان چارنمازوں میں قنوت نازلہ پڑھ لے تو بالاتفاق فاسد ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1291