Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2843

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانُوا يَبْتَاعُونَ الطَّعَامَ فِي أَعلَى السُّوقِ فَيَبِيعُونَهُ فِي مَكَانِهٖفَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِهٖ فِي مَكَانِهٖ حَتّٰى يَنْقِلُوهُ.رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَلَمْ أَجِدهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ

وعن ابن عمر قال: كانوا يبتاعون الطعام في أعلى السوق فيبيعونه في مكانهفنهاهم رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعه في مكانه حتى ينقلوه.رواه أبو داود ولم أجده في الصحيحين

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ لوگ غلہ بازار کے اونچے حصے میں خریدتے تھے ۱؎پھر اسی جگہ بیچ دیتے تھے ۲؎تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے انہیں اسی جگہ بیچ دینے سے منع فرمادیا حتی کہ اسے وہاں سے منتقل کردیں ۳؎(ابوداؤد)میں نے یہ حدیث بخاری میں نہ پائی۔

شرح حدیث

۱∞؎بازار مدینہ میں ایک طرف سے لوگ آتے تھے دوسری طرف سے نکلتے تھے،آنے والے حصہ کو اعلٰی سوق کہتے تھے،جدھر سے تاجر مال کے اونٹ داخل کرتے تھے،نکلنے والے حصہ کو اسفل سوق یہاں وہ ہی مراد ہے ورنہ زمین مدینہ ہموار ہے وہاں اونچائی نیچائی نہیں۔
۲
؎بغیر قبضہ کیے ہوئے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۳
؎بعض ائمہ نے فرمایا کہ منقول چیزیں بغیر منتقل کیے خریدار کے قبضہ میں نہیں آتیں یعنی ان پر قبضہ کرنے میں وہاں سے منتقل کردینا ضروری ہے،وہ اس حدیث کے ظاہر سے دلیل پکڑتے ہیں مگر حق یہ ہے کہ یہاں نقل سے مراد نقل مکانی نہیں بلکہ نقل قبضہ ہے یعنی اسی جگہ پڑی ہوئی چیز پر بغیر قبضہ کیے فروخت کرنا منع ہے،اگر چیز وہاں ہی رہی مگر اسے اپنے قبضہ و کنٹرول میں لے لیا تو اس کی بیع درست ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں آرہا ہے،اگلی حدیث اس حدیث کی شرح ہے کہ وہاںحتّٰی یستوفیہاورحتّٰی یکتالہہے لہذا یہ حدیث واضح ہے اگلی حدیث کے متعارض بھی نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2843