Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2852

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللّٰهُ عَلَى سَوْمِ أَخيهِ الْمُسْلِم» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يبع حاضر لباد دعوا الناس يرزق الله على سوم أخيه المسلم» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ شہری دیہاتی کے لیے تجارت نہ کرے ۱؎لوگوں کو چھوڑ دو کہاللّٰهبعض کو بعض کے ذریعہ روزی دے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس کی شرح پہلے ہوچکی کہ جب دیہاتی لوگ گاؤں سے غلہ لائیں تو انہیں فروخت کرلینے دو ان کا غلہ خود شہری جمع کرلیں تاکہ گرانی پر فروخت کیا جائے کہ اس سے شہر میں گرانی بڑھتی ہے،اب بھی تنگی پر اسٹاک کرنا بلیک کرنا ممنوع ہوتا ہے۔
۲
؎یعنی اگر شہر والوں کو ان گاؤں والوں کے ذریعہ روزی ملے ارزانی میسر ہوجائے تو تم کیوں آڑ بن کر اسے روکنا چاہتے ہو۔قانون قدرت یہ ہی ہے کہ بعض بندوں کو بعض کے ذریعہ روزی ملتی ہے کسی کی دیوار گرتی ہے تو راج مزدوروں کی روزی کھلتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2852