Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2839

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتّٰى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا نَهٰى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: نَهٰى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتّٰى تَزْهُوَ وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ وَيَأْمَنَ العَاهَةَ

وعن عبد الله بن عمر: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الثمار حتى يبدو صلاحها نهى البائع والمشتري. (متفق عليه)وفي رواية لمسلم: نهى عن بيع النخل حتى تزهو وعن السنبل حتى يبيض ويأمن العاهة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن عمر سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے پھلوں کی تجارت سے انکی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے منع فرمایا ۱؎تاجر کو بھی منع فرمایا اور خریدار کو بھی ۲؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی ایک روایت میں یہ ہے کہ سرخ ہونے سے پہلے کھجور کے پھل کی تجارت سے اور سفید پڑنے سے پہلے اور آفات سے امن سے پہلے بالیوں کی تجارت سے منع فرمایا ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی درختوں پر لگے ہوئے ان پھلوں کی تجارت سے منع فرمایا جو ابھی ناقابل نفع ہوں جن سے کوئی نفع حاصل نہ ہو سکے،بالکل کچے و نرم پھل جب سخت پڑ جائیں تو اگرچہ ابھی کچے ہوں ان کی بیع جائز ہے کہ ان سے نفع حاصل ہوسکتا ہے جیسے کچے آم،کھٹائی اچار،مربے میں کام آتے ہیں،کچی کھجوریں یعنی بسر کھائی جاتی ہیں۔معلوم ہوا کہ ناقابل نفع پھل مال ہی نہیں اور تجارت میں دو طرفہ مال چاہیے۔
۲
؎تاجر کو اس سے منع فرمایا کہ پھل ہلاک ہوجانے کی صورت میں وہ خریدار سے قیمت بغیر کچھ دیئے لے گا اور خریدار کو اس لیے منع فرمایا کہ ہلاکت کی صورت میں اس کا مال ضائع ہوجائے گا یہ بیع بالاتفاق ممنوع ہے،اس کی ممانعت میں حضرت عبداللّٰه ابن عباس،جابر، ابوہریرہ،زید ابن ثابت،ابو سعید خدری،عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہم اجمعین سے احادیث مروی ہیں۔
۳
؎یعنی گندم جو وغیرہ کی بالیاں سفید پڑنے سے پہلے اور کھجور وغیرہ پھل سرخ ہونے سے پہلے خطرہ میں ہوتے ہیں،بے وقت بارش آندھی وغیرہ سے برباد ہوسکتے ہیں اس لیے ان کی بیع نہ کرو،بالیاں سفید ہونے پر اور کھجوریں وغیرہ سرخ ہونے پر اگر جھڑ بھی جائیں تو کچھ نہ کچھ کام آجاتے ہیں ان کی بیع درست ہے،نیز دانہ کی بیع بالی میں درست ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2839