Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2841

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ وَأَمَرَ وَأَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوائِحِ.رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع السنين وأمر وأمر بوضع الجوائح.رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے برسوں تک کی فروخت سے منع فرمایا ۱؎اور آفتوں کے نقصانات وضع کردینے کا حکم دیا ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی باغ کی چند بہاریں خریدنے سے منع فرمایا مثلًا خریدار مالک باغ سے کہے کہ میں تجھ سے اس باغ کی چھ سال تک کی بہاریں خریدتا ہوں،چونکہ یہ معدوم یعنی اس کی خریداری ہے جو ابھی پیدا بھی نہ ہوئی نہ مال بنی اس لیے ممنوع ہے اس ممانعت پر بھی سب کا اتفاق ہے۔
۲
؎یہ حکم بادشاہ وقت کو ہے کہ خراجی زمینوں کے خراج کی وصولی میں آفات کا خراج کم کردیں۔(طحاوی)اور ہوسکتا ہے کہ بائع کو حکم ہو یعنی اگر مالک باغ نے رسیدہ پھل فروخت کیے پھر بھی توڑنے سے پہلے کوئی آفت آگئی تو بہتر یہ ہے کہ بقدر نقصان قیمت کم وصول کرے اور اگر ساری قیمت لے چکا ہے تو بقدر نقصان واپس کردے،یہ حکم استحبابی ہے،اب بھی نیک لوگ اس پر عمل کرتے ہیں،حکام تباہی کی صورت میں لگان معاف یا کم کردیتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2841