Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2873

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعَ حِلْسًا وَقَدَحًا فَقَالَ: « مَنْ يَشْتَرِي هَذَا الْحِلْسَ وَالْقَدَحَ ؟» فَقَالَ رَجُلٌ: آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَزِيدُ عَلٰى دِرْهَمٍ؟» فَأَعْطَاهُ رَجُلٌ دِرْهَمَيْنِ فَبَاعَهُمَا مِنْهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

وعن أنس: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم باع حلسا وقدحا فقال: « من يشتري هذا الحلس والقدح ؟» فقال رجل: آخذهما بدرهم. فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «من يزيد على درهم؟» فأعطاه رجل درهمين فباعهما منه. رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ایک کمبل وپیالہ نیلام کیا ۱؎تو فرمایا اس کمبل و پیالے کو کون خریدتا ہے تو ایک صاحب بولے میں انہیں ایک درہم میں لیتا ہوں تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کون ایک درہم پر بڑھاتا ہے دوسرے صاحب نے دو درہم حاضر کیے تو ان ہی کے ہاتھ فروخت کر دیں ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎حلسوہ بڑا کمبل ہے جو اونٹ پر ڈالا جائے یا فرش پر بچھایا جائے،چھوٹا کمبل جو ایک آدمی ہی اوڑھ سکےکساءکہلاتا ہے،یہ دونوں چیزیں حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی اپنی نہ تھیں بلکہ ایک فقیر و مسکین کی تھیں جو حضور انور سے کچھ مانگنے آیا تھا،حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اسے بھیک سے بچالیا اس کی دو چیزیں نیلام کرکے اسے کام پر لگادیا۔
۲
؎اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ نیلام جائز ہے جسے عربی میں بیع من یزید کہتے ہیں۔دوسرے یہ کہ ایک کے بھاؤ پر دوسرا آدمی بھاؤ لگا سکتا ہے جب کہ پہلا بھاؤ طے نہ ہوا ہو،جن احادیث میں بھاؤ پر بھاؤ لگانے سے منع کیا گیا ہے وہاں بھاؤ طے ہوچکنے کے بعد مراد ہے۔تیسرے یہ کہ کسی کی چیز دوسرا آدمی وکیل بن کر فروخت کرسکتا ہے۔چوتھے یہ کہ بیع تعاطی یعنی فقط لین دین سے جائز ہے اگرچہ منہ سے ایجاب و قبول نہ ہو۔پانچویں یہ کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم ہماری جان و مال کے مالک ہیں کہ ہماری چیز بغیر ہماری رضا مندی فروخت کرسکتے ہیں کیونکہ وہ صحابی حضور سے مانگنے آئے تھے نہ کہ چیز بکوانے مگر حضور نے ان سے بغیر پوچھے ان کی چیزیں نیلام کر دیں،قرآن شریف فرمارہا ہے کہ مسلمان کو حضور کے مقابلہ میں اپنی جان و مال کا کوئی اختیار نہیں جس کا جس سے چاہیں نکاح کر دیں فرماتا ہے:"وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَۃٍ"الخ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2873