Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2836

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَالْمُعَاوَمَةِ وَعَنِ الثُّنْيَا
وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المحاقلة والمزابنة والمخابرة والمعاومة وعن الثنيا
ورخص في العرايا. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے محاقلہ،مزابنہ اور مخابرہ اور معاومہ سے ۱؎اور کچھ مستثنٰی کرلینے سے منع فرمایا ۲؎عرایا میں اجازت دی ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎معاومہعامسے بنا بمعنی سال یا برس جیسے مشاہرہ شہر سے اور عسانہ سنت سے۔معاومہ یہ ہے کہ کسی باغ کی چند سال کی بہار خرید لی جائے جیساکہ آج کل عام رواج ہے یہ بیع باطل ہے کہ اس میں وہ چیز خریدی جاتی ہے جو ابھی پیدا بھی نہ ہوئی جیسے کہ جانور کے غیر پیدا شدہ بچے خرید لینا،بیع میں دو طرفہ مال چاہیے اور غیر پیدا شدہ چیز مال تو کیا شے ہی نہیں۔
۲
؎استثناء کی صورت یہ ہے کہ باغ کا مالک یا کھیت والا خریدار سے کہے کہ اتنے روپیہ کے عوض میں نے یہ پھل تیرے ہاتھ فروخت کیے مگر ان میں سے دس من میرے باقی تیرے،یہ منع ہے کہ دس من نکل جانے پر بقایا کی خبر نہیں کہ کتنے ہوں یا بالکل نہ ہوں،صرف دس من ہی اس باغ یا کھیت میں ہوں چونکہ بیع مجہول رہ جاتی ہے اس لیے منع ہے۔
۳
؎عرایا عریۃکی جمع ہے،بمعنی خالی ہوجانا۔عریہ کی صورت یہ ہے کہ کوئی باغ والا اپنے باغ کا ایک درخت کسی فقیر کو دیدے کہ تو اس کے پھل کھایا کر اب فقیر ان پھلوں کی وجہ سے باغ میں آنے جانے لگے جس سے مالک کے بال بچوں کو تکلیف ہو اس لیے مالک اسے کچھ کھجوریں اس درخت میں لگے ہوئے پھل کے عوض دے کر باغ سے رخصت کردے اگرچہ یہ بھی مزابنہ بیع معلوم ہوتی ہے مگر درحقیقت تبدیل ہبہ ہے اس لیے جائز ہے اس کی اور تفسیر بھی ہے مگر یہ قوی ہے۔(اشعہ،مرقات،لمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2836