Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2847

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَلَقُّوُا الرُّكْبَانَ لِبَيْعٍ وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَيْعِ بَعْضٍ وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذٰلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظِرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلِبَهَا: إِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ"(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: " مَنِ اشْتَرٰى شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ: فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ لَا سَمْرَاءَ.

وعن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لا تلقوا الركبان لبيع ولا يبع بعضكم على بيع بعض ولا تناجشوا ولا يبع حاضر لباد ولا تصروا الإبل والغنم فمن ابتاعها بعد ذلك فهو بخير النظرين بعد أن يحلبها: إن رضيها أمسكها وإن سخطها ردها وصاعا من تمر"(متفق عليه)وفي رواية لمسلم: " من اشترى شاة مصراة فهو بالخيار ثلاثة أيام: فإن ردها رد معها صاعا من طعام لا سمراء.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تجارتی قافلے سے آگے ہی نہ جا ملو ۱؎اور کوئی دوسرے کی خریداری پر خریداری نہ کرے ۲؎اور نہ نرخ بڑھاؤ ۳؎اور نہ شہری دیہاتی کے لیے تجارت کرے ۴؎اور اونٹ و بکری کو نہ روکو۵؎پھر جو اس کے بعد جانور خریدے اسے دوھنے کے بعد دونوں میں سے بہتر چیز کا اختیار ہے ۶؎اگر اس سے راضی ہو تو رکھ لے اور اگر ناراضی ہو تو اسے واپس کردے ایک صاع چھوہاروں کے ساتھ ۷؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں یہ بھی ہے کہ جو روکی ہوئی بکری خریدلے تو اسے تین دن تک اختیار ہے پھر اگر اسے واپس کرے تو اس کے ساتھ گندم کے سواء اور کوئی غلہ ایک صاع دے ۸؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی تجارتی قافلے کی آمد سن کر شہر سے باہر ہی ان سے سامان نہ خرید لو،بلکہ انہیں بازار میں مال لے آنے دو تاکہ انہیں بازاری بھاؤ کی خبر ہوجائے اور ان کے بازار میں آمد سے نرخ ارزاں ہوجائے۔
۲
؎یہاں لفظبیعبمعنی فروخت بھی ہوسکتا ہے اور بمعنی خرید بھی یعنی جب دو شخص کوئی چیز خرید و فروخت کررہے ہوں اور سودا طے ہو چکا اور قریبًا بات پختہ ہوگئی تو نہ تو کوئی شخص بھاؤ بڑھا کر وہ چیز خریدے اور نہ کوئی شخص بھاؤ سستا کرکے خریدار کو توڑے،یہ دونوں باتیں ممنوع ہیں،نیلام کا یہ حکم نہیں ہاں بولی دیتے وقت بات طے نہیں ہوتی جو بولی بڑھائے وہ لے لے یہ جائز ہے۔
۳
؎نیلام میں اگر کوئی شخص بولی بڑھادے مگر خریدنا مقصود نہ ہو صرف چیز کی قیمت بڑھانا مقصود ہو کہ دوسرا آدمی اس سے زیادہ کی بولی دے یہ نجش ہے اور ممنوع ہے کہ دھوکا دہی ہے۔
۴
؎اس طرح مال لانے والے دیہاتیوں کو آج کے بھاؤ پر مال فروخت نہ کرنے دے بلکہ اس کا مال خود سنبھال لے کہ جب مہنگا ہوگا فروخت کردوں گا،جیسا کہ آج کل بعض آڑھتی یا دلال کرتے ہیں ناجائز ہے کہ اس سے چیزیں مہنگی ہوتی ہیں بلکہ قحط پڑ جانے کا خطرہ ہوتا ہے باہر کا مال بکنے دو تاکہ مخلوق کو آرام رہے۔
۵
؎تصروا،تکے پیشصکے فتح سے،یا بالعکستکے فتحصکے پیش سے۔(اشعہ)تصریہسے بنا بمعنی دودھ تھن میں روک دینا،نہ نکالنا ایسے جانور کومصراتکہتے ہیں یہ حرکت خریدار کو دھوکا دینے کے لیے کی جاتی ہے کہ وہ زیادتی دودھ سے دھوکا کھا کر قیمت زیادہ دے جائے۔
۶
؎یعنی اگر کسی نے دودھ کا جانور خریدا مگر دھوکا کھا گیا کہ خریدتے وقت تو دودھ زیادہ تھا بعد میں کم نکلا،تاجر نے کئی وقت سے دودھ نکالا نہ تھا اس لیے اس وقت دودھ بہت ہوا تو اب خریدار کو اختیار ہے۔
۷
؎یعنی اگر جانور رکھنا ہے تو خیر اور اگر رکھنا نہیں ہے تو اس دودھ کے عوض جو اس نے پیا ساڑھے چار سیرخرمے جانور فروخت کرنے والے کو دے دے،اس دودھ کے عوض جو خریدتے وقت جانور کے ساتھ لیا تھا کہ وہ تاجر کے مملوکہ جانور کا تھا لہذا تاجر کی ملک تھا۔اس حدیث کے ظاہر پر امام شافعی کا عمل ہے وہ فرماتے ہیں کہ وہ دودھ تھوڑا ہو یا زیادہ اس کے عوض ایک صاع چھوہارے ہی دیئے جائیں گے جیسے نفس کی دیت سو اونٹ ہیں کہ قاتل مقتول کی دیت سو اونٹ دے گا،نفس مقتول خواہ کیسا ہی ادنی یا اعلٰی ہو اور خریدار کو مصرات جانور کے واپس کردینے کا حق ہوگا،امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث قابل عمل نہیں کہ قرآن کریم کی اس آیت کے خلاف ہے"فَاعْتَدُوۡا عَلَیۡہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیۡکُمْ"جس سے دودھ مصرات کی قیمت یا مثل دینا معلوم ہوتا ہے یا یہ حدیث سود حرام ہونے سے پہلے کی ہے کہ اس وقت معاملات میں اس قسم کی کمی بیشی درست تھی۔(مرقات،لمعات وغیرہ)
۸
؎حدیث کا یہ جزو امام شافعی کے بھی خلاف ہے کہ ان کے ہاں مصرات جانور کے ساتھ صرف ایک صاع کھجوریں ہی دی جاتی ہیں،کھجور یا چھوہارے کے سوا کوئی اور چیز نہیں دے سکتے مگر اس جزء سے معلوم ہوا کہ سوا گندم کے اور غلے بھی دے سکتے ہیں،ہمارے امام صاحب کے ہاں یہ حدیث یا منسوخ ہے حرمت سود کی احادیث سے یا متروک العمل قرآن کریم کی مخالفت کی وجہ سے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2847