Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2874

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُوْلُ: من بَاعَ عَيْبًا لَمْ يُنَبِّهْ لَمْ يَزَلْ فِي مَقْتِ اللّٰهِ أَوْ لَمْ تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ تَلْعَنُهٗ . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

عن واثلة بن الأسقع قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من باع عيبا لم ينبه لم يزل في مقت الله أو لم تزل الملائكة تلعنه . رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت واثلہ ابن اسقع سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو عیب دار چیز فروخت کردے جس پر خبردار نہ کرے تو وہاللّٰهتعالٰی کی ناراضی میں رہے گا یا فرشتے اس پر لعنت کرتے رہیں گے۲؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کے اسلام کے وقت میں اختلاف ہے،بعض فرماتے ہیں کہ تیاری غزوہ تبوک کے وقت ایمان لائے،بعض فرماتے ہیں کہ اس سے پہلے لاچکے تھے بلکہ اصحاب صفہ سے تھے،تین سال حضور انور کی خدمت میں رہے،۹۸ یا ۱۰۰ سال کی عمر میں دمشق میں وفات پائی،آپ دمشق کے آخری صحابی ہیں۔(اشعہ)
۲
؎عَیِّبُیا تویکے شد اور کسرہ سے ہے صفت مشبہ یایکے سکون سے مصدر،اگر مصدر ہے تو مبالغہ کے لیے ارشاد ہوا یعنی جو عیب دار چیز کو فروخت کرے وہ گویا سراپا عیب فروخت کررہا ہے،عیب کا تاجر ہے،اس جرم پر اتنی سخت سزا اس لیے ہے کہ دھوکا دینا مؤمن کی شان کے خلاف ہے،نہ مؤمن کو دھوکا دے نہ کافر کو،یہ شرعی قومی ملکی جرم ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2874