Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2867

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبِيعَ مَا لَيْسَ عِنْدِي رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ فِي رِوَايَةٍ لَهٗ وَلِأَبِي دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ: قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ يَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيُرِيدُ مِنِّي الْبَيْعَ وَلَيْسَ عِنْدِي فَأَبْتَاعُ لَهٗ مِنَ السُّوقِ قَالَ: لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ

وعن حكيم بن حزام قال: نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أبيع ما ليس عندي رواه الترمذي في رواية له ولأبي داود والنسائي: قال: قلت: يا رسول الله يأتيني الرجل فيريد مني البيع وليس عندي فأبتاع له من السوق قال: لا تبع ما ليس عندك

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حکیم ابن حزام سے فرماتے ہیں مجھے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا کہ جو چیز میرے پاس نہ ہو اسے فروخت کردوں ۱؎(ترمذی)اور ترمذی و ابوداؤد اور نسائی کی ایک روایت میں یوں ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسولاللّٰهمیرے پاس کوئی شخص آتا ہے مجھے فروخت کرنے کو کہتا ہے اور میرے پاس چیز ہوتی نہیں ۲؎تو میں اس کے لیے بازار سے خرید لیتا ہوں ۳؎تو فرمایا جو چیز تمہارے پاس نہ ہو وہ نہ بیچو

شرح حدیث

۱∞؎اس میں بھاگے ہوئے غلام،دریا کی مچھلی،ہوا کے پرندے یا گم شدہ مال کی تمام بیع داخل ہے کہ یہ تمام تجارتیں ممنوع ہیں،ہاں بیع سلم بالاتفاق جائز ہے اگرچہ بائع کے پاس وہ چیز عقد کے وقت ہوتی نہیں،یونہی دوسرے کے مال کی بیع اس کی بغیر اجازت موقوف ہے کہ اگر وہ اجازت دے دے تو جائز ہوجائے گی۔
۲
؎اس کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ بازار سے اس کے لیے خریدے جسے دلالی کہتے ہیں یہ تو درست ہے۔دوسرے یہ کہ اپنے لیے خریدے اور خود مالک بن کر پہلے خریدار کو دے،یہ ممنوع ہے،یہاں یہ ہی مراد ہے کہ اس صورت میں اس نے یہ چیز فروخت کی جس کا بوقت بیع مالک نہ تھا،ہاں ایسی چیز کا وعدہ بیع کرلینا یا آرڈر(Order)لے لینا درست ہے جیسا کہ آج کل بعض لوگ کرتے ہیں کہ آرڈر (Order)وصول کرکے چیز خرید کر بھیجتے یا بنا کردیتے ہیں،ہم موچی سے جوتا بنواتے ہیں سلائی پہلے دے دیتے ہیں،اسے استصنعاع کہتے ہیں یہ بالاتفاق درست ہے۔
۳
؎یہاں مرقات نے فرمایا کہ اس جگہ غیر مقبوض یا غیر مملوک اعیان کی بیع منع ہےجیسے کہے میں فلاں غلام تمہارے ہاتھ فروخت کرتا ہوں حالانکہ وہ غلام یا تو اپنا ہے ہی نہیں یا ہے مگر بھاگا ہوا ہے یا فلاں پرندہ جو اڑ رہا ہے فروخت کرتا ہوں کہ شکار کرکے تمہارے حوالہ کروں گایہ ممنوع ہے مگر صفات کی بیع جائز ہے خواہ مملوک یا مقبوض ہو یا نہ ہو جیسے بیع سلم میں اور چیز بنوانے میں ہوتا ہے،یہ بہت نفیس توجیہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2867