Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2870

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ وَلَا رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ، وَلَا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا صَحِيحٌ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يحل سلف وبيع ولا شرطان في بيع ولا ربح ما لم يضمن، ولا بيع ما ليس عندك».رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وقال الترمذي: هذا صحيح

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ نہ تو ادھار اور فروخت جائز ہے ۱؎اور نہ فروخت میں دو شرطیں جائز ۲؎نہ اس کا نفع جائز جس کا ذمہ دار نہ ہو اور نہ وہ چیز بیچنا حلال جو تیرے پاس نہ ہو۳؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث صحیح ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎اس کی دوصورتیں ہیں: ایک یہ کہ بائع خریدار سے کہتے ہیں تیرے ہاتھ یہ چیز سو روپے کے عوض فروخت کرتا ہوں بشرطیکہ تو مجھے دس روپے قرض بھی دے،یہ حرام ہے کہ ایک قسم کا سود ہے کیونکہ خریدار نے دس روپے قرض کے عوض میں اس چیز کے خریدنے کا نفع بھی حاصل کرلیا یا اس کے برعکس کہ قرض مانگنے والے سے ساہوکار کہے میں تجھے سو روپیہ اس شرط پر قرض دیتا ہوں کہ دس روپے میں اپنی بکری میرے ہاتھ فروخت کردے یعنی بیع میں قرض کی شرط ہو تو منع اور قرض میں بیع کی شرط ہو تب منع۔دوسرے یہ کہ ساہوکار قرض مانگنے والے سے کہے میں تجھے سو روپے قرض دیتا ہوں بشرطیکہ تم میری فلاں چیز اتنے میں خرید لو یعنی مہنگی اس میں بھی وہ ہی قباحت ہے کہ قرض کے ذریعہ نفع کما رہا ہے۔
۲
؎اس جملہ کی شرح میں بہت گفتگو ہے،بعض محدثین تو فرماتے ہیں کہ یہ جملہ پہلے جملہ کی تفسیر ہے یعنی سلف بیع کی،بعض نے فرمایا کہ دو کا ذکر اتفاقی ہے،بیع بالشرط مطلقًا منع ہے جیسا کہ بعض احادیث میں ہے کہ حضور انور نے بیع اور شرط سے منع فرمایا،ان کا خیال ہے کہ شرطان سے مراد دونوں قسم کی شرطیں ہیں یعنی نہ تو بائع خریدار پرکوئی شرط لگائے کہ یہ چیز تیرے ہاتھ فروخت کرتا ہوں بشرطیکہ دو ماہ تک اس کو میں ہی استعمال کروں گا یا تو مجھے اتنے روز کے لیے اپنا مکان عاریۃً یا کرایہ پر دے اور نہ خریدار تاجر پر کوئی شرط لگائے کہ کپڑا تو خریدتا ہوں بشرطیکہ تو مجھے سی کر یا دھوکر دے،یہ دونوں قسم کی شرطیں بیع کو فاسد کردیں گی جب کہ شرطیں خود فاسد ہوں۔شرط فاسد وہ کہلاتی ہے جسے بیع نہ چاہے،جسے خود بیع ہی چاہے وہ شرط صحیح ہے اس کی تجارت فاسد نہیں ہوتی جیسے تاجر کہے کہ چیز بیچتا ہوں بشرطیکہ تو مجھے روپے کھرے دے یا ابھی نقد دے یا خریدار کہے کہ خریدتا ہوں بشرطیکہ مال اصل ہو نقل نہ ہو وغیرہ۔
۳
؎یعنی جو چیز تیرے قبضہ میں نہ ہو اس کا بیچنا بھی ممنوع ہے اور جس چیز کا تو ابھی مالک نہ بنا اس کی فروخت بھی منع۔مالم یضمنسے مراد جو اپنے ضمان و قبضہ میں نہ آئی جیسے ہم کوئی چیز خریدیں اور بغیر قبضہ کیے فروخت کردیں،یہ منع ہے اس کی شرح گزرچکی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2870