Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2860

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلٰى صُبْرَةِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهٗ فِيهَا فَنَالَتْ أَصَابِعُهٗ بَلَلًا فَقَالَ: «مَا هٰذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟» قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ: «أَفَلَا جَعَلْتَهٗ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتّٰى يَرَاهُ النَّاسُ؟ مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها فنالت أصابعه بللا فقال: «ما هذا يا صاحب الطعام؟» قال: أصابته السماء يا رسول الله قال: «أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس؟ من غش فليس مني» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم غلہ کے ایک ڈھیر پر گزرے تو اپنا ہاتھ شریف اس میں ڈال دیا آپ کی انگلیوں نے اس میں تری پائی ۱؎تو فرمایا اے غلہ والے یہ کیا عرض کیا یارسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم اسے بارش پڑ گئی ۲؎فرمایا تو گیلے غلہ کو تو نے ڈھیر کے اوپر کیوں نہ ڈالا تاکہ اسے لوگ دیکھ لیتے ۳؎جو ملاوٹ کرے وہ ہم میں سے نہیں ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم غلہ کے بازار میں تشریف لے گئے تو کسی دکان پر گندم یا جو یا کسی اور غلہ کا ڈھیر تھا،حضور انور نے اس ڈھیر میں اپنا ہاتھ شریف داخل کیا تو پتہ لگا کہ ڈھیر کے اوپر تو غلہ سوکھا ہوا ہے مگر اندر سے گیلا ہے یعنی تاجر نے لوگوں کو دھوکا دے رکھا ہے غالبًا دکاندار کو یہ خبر نہ تھی کہ یہ بھی جرم ہے،وہ سمجھے تھے کہ خود گیلا کرنا گناہ ہے جو باہر سے قدرتی طور پر گیلا ہوجائے اس میں ہمارا کیا گناہ،لہذا اس سے ان صحابی کا فسق ثابت نہیں ہوتا،نیز گناہ کرلینا اور چیز ہے فسق کچھ اور یہ گناہ تھا جس سے توبہ ہوگئی اگر اس گناہ پر جم جاتے توبہ نہ کرتے تو فسق ہوتا،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَمْ یُصِرُّوۡا عَلٰی مَا فَعَلُوۡا
۲
؎یعنی گندم بارش سے بھیگ گیا تھا میں نے اس بھیگے ڈھیر پر سوکھا گندم ڈال دیا۔خلاصہ یہ ہے کہ خود دھوپ سے اوپر کا حصہ نہ سوکھ گیا تھا ورنہ ان پر عتاب نہ ہوتا،بلکہ سوکھا گندم ڈالا گیا تھا۔
۳
؎یعنی سوکھا گندم اوپر نہ ڈالنا چاہیے تھا تاکہ خریدار دھوکا نہ کھاتا۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ تجارتی چیز کا عیب چھپانا گناہ ہے بلکہ خریدار کو عیب پر مطلع کردے کہ وہ چاہے تو عیب دار سمجھ کر خریدے چاہے نہ خریدے۔دوسرے یہ کہ حاکم یا بادشاہ کا بازار میں گشت کرنا،دکانداروں کی ان کی چیزوں کی،باٹ ترازو کی تحقیقات کرنا،قصور ثابت ہونے پر انہیں سزا دینا سنت ہے،آج جو یہ تحقیقات حکام کرتے ہیں اس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔
۴
؎اس سے معلوم ہوا کہ تجارتی چیز میں عیب پیدا کرنا بھی جرم ہے اور قدرتی پیدا شدہ عیب کو چھپانا بھی جرم۔دیکھو بارش سے بھیگے غلہ کو چھپانا ملاوٹ ہی میں داخل فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2860