Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2848

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَلَقُّوا الْجَلَبَ فَمَنْ تَلَقَّاهُ فَاشْتَرٰى مِنْهُ فَإِذَا أَتٰى سَيِّدُهٗ السُّوقَ فَهُوَ بِالْخِيَارِ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تلقوا الجلب فمن تلقاه فاشترى منه فإذا أتى سيده السوق فهو بالخيار » . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ تم لوگ غلہ لانے والوں سے آگے ہی نہ جا ملو ۱؎جو کوئی ان سے آگے ہی مل جائے اور خریداری کرلے پھر جب قافلہ کا سردار بازار میں آئے تو اسے اختیار ہے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎جلب جالبکی بھی جمع ہے اورمجلوبکی بھی،جالبباہر سے مال لانے والا قافلہ یا کوئی خاص شخص اورمجلوبباہر سے لایا ہوا مال،اونٹ وغیرہ ہوں یا اور مال،یہاں دونوں معنی ہوسکتے ہیں یعنی مال لانے والے قافلے سے شہر سے باہر مل کر مال نہ خرید لو،یا باہر سے لائے ہوئے مال سے بیرون شہر میں نہ جا ملو۔
۲
؎اگرجلب جالبکی جمع تھی تو سید سے مراد سردار قافلہ ہے اور اگرمجلوبکی جمع تھی تو سید سے مراد مال کا مالک ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وہ بیع درست ہوچکی تھی ورنہ اختیار رد کے کیا معنی، رد بیع جب ہوسکتا ہے جب کہ بیع درست ہوچکی ہو۔حق یہ ہے کہ مالک مال کو بیع ردکرنے کا حق جب ہوگا جب کہ بازار میں وہ چیز گراں ہو اور اس سے سستی لے لی گئی ہو،لیکن اگر بھاؤ برابر ہے یا ارزاں ہے تو اختیار نہیں،یہ ہی قول قرین قیاس بھی ہے کہ رد کا حق دفع نقصان کے لیے ہوتا ہے،جب اس کا نقصان ہوا ہی نہیں تو رد کیسا۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2848