Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2859

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُبَاعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُبَاعَ بِهٖ الْكَلأُ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يباع فضل الماء ليباع به الكلأ»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ بچا ہوا پانی نہ بیچا جائے تاکہ اس سے گھاس فروخت کی جائے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کنوئیں والا پانی کی بیع کو گھاس کی بیع کاذریعہ بنائے۔اس کی صورت یہ ہے کہ کسی شخص نے بنجر زمین جسے عربی میں موات کہتے ہیں آباد کی وہاں کنواں لگوالیا،لوگ اس زمین کے اردگرد اپنے جانور چراتے ہیں،وہ زمین موات جو ہوئی یہ شخص جانوروں کو چرنے سے روک نہیں سکتا،وہ بہانہ یہ کرے کہ کسی جانور کو بلامعاوضہ پانی نہ پینے دے جو اس کے اپنے کنوئیں کا ہے،نیت یہ ہو کہ اس پانی کی روک سے جانور یہاں کی گھاس چرنا چھوڑ دیں گے پھر یہ گھاس میری اپنی ہوگی کہ اس سے پیسہ کماؤں گا،یہ جرم ہے کہ کنواں تو اس کا ہے مگر زمین سرکاری چھوٹی ہوئی ہے،یہ پانی کے بہانہ چراگاہ کی گھاس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ورنہ اپنی زمین کی کھڑی گھاس اور کاٹی ہوئی گھاس کی بیع جائزہے۔(مرقات)یہاں ذکرحمییعنی چراگاہ کا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2859