Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2837

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِإِلَّا أَنَّهٗ رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن سهل بن أبي حثمة قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الثمر بالتمرإلا أنه رخص في العرية أن تباع بخرصها تمرا يأكلها أهلها رطبا(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سہل ابن ۱؎ابی حثمہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے تر کھجور چھوہاروں کے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا ۲؎مگر عریہ کی اجازت دی کہ درخت کے پھل چھوہاروں کے عوض بیچے جائیں کہ عریہ والے تر کھجور کھا سکیں ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،انصاری ہیں، ۳ھ میں پیدا ہوئے،حضور انور کی وفات کے وقت آٹھ سال کے تھے، بعض محدثین نے فرمایا کہ آپ بیعت الرضوان میں شریک ہوئے اور احد و تمام غزوات میں حاضر رہے۔واللّٰه اعلم!(اشعہ)
۲
؎تمرسے مراد تر کھجور ہے کہ اکثر تر میوہ کو ہیتمریعنی پھل کہا جاتا ہے نہ کہ خشک کو،اس تمر سے مراد خشک چھوہارے ہیں،چونکہ تر کھجور سوکھ کر گھٹ جاتی ہے اور خبر نہیں کتنی گھٹے اس لیے اس میں سود کا احتمال ہے۔
۳
؎یہاں عریہ کی صورت یہ ہے کہ باغ والے نے کسی فقیر کو ایک درخت کے پھل خیرات دیئے یہ فقیر اتنے روز تک صبر نہیں کرسکتا کہ موسم بھر توڑتا رہے کھاتا رہے،دوسرے فقیر کے پاس خشک چھوہارے تھے اسے اور اس کے بچوں کو تر کھجوریں کھانے کا شوق تھا، چھوہارے والا فقیر چھوہارے کے عوض یہ کھجوریں خرید لے،اب درخت والے کو اکٹھے چھوہارے مل گئے اور چھوہارے والے کو تر کھجوریں اگرچہ یہ بیع مزابنہ ہوئی مگر فقراء کی حاجت روائی کے لیے جائز رکھی گئی۔مرقات میں ہے کہ جب بیع مزابنہ سے منع کیا گیا تو فقراء صحابہ بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم لوگ تر کھجوروں سے محروم ہوجائیں گے تب حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بیع عریہ کی اجازت دی،معلوم ہوا حضور مالک احکام ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2837