Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2865

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُضْطَرِّ وَعَنْ بَيْعِ الغَرَرِ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ أَنْ تُدْرِكَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن علي قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع المضطر وعن بيع الغرر وعن بيع الثمرة قبل أن تدرك. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مجبور کی ۱؎اور دھوکے اور پکنے سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎مضطرسے مرا دیا مجبور ہے یا محتاج یعنی کسی کی چیز جبرًا نہ خریدو کہ راضی نہ ہو تم اس کی چیز فروخت کردو،یہ بیع فاسد ہے،کبھی حکومت ظلمًا کسی کا مال نیلام کرادیتی ہیں،وہ بے چارہ روتا رہتا ہے،حکومت کے جرمانے یا ٹیکس کی وصولی کے لیے چیزیں نیلام ہوتی ہیں ان کا خریدنا جائز نہیں یا یہ مطلب ہے کہ جو محتاج شخص قرض یا بھوک کی وجہ سے تنگ آکر اپنی چیزیں نہایت سستی بیچے وہ نہ لو کہ خلاف مروت ہے بلکہ ایسے کی حتی الامکان امداد کرو۔(لمعات و مرقات و اشعہ)خیال رہے کہ دیوالیہ کا مال نیلام کردینا جائز ہے مگر حاکم نیلام کرے،یہ ظلمًا بیع نہیں ہے بلکہ قرض خواہوں کا قرض ادا کرنے کے لیے ہے۔
۲
؎دھوکا کی تجارت سے مراد یا فریب کی بیع ہے کہ تاجر ناقص مال کو اچھا بتا کر کسی کے ہاتھ بیچ دے۔اس صورت میں خریدار کو خیار غیب ملے گا کہ چیز کے عیب پر مطلع ہو کر واپس کرسکے گا یا جہالت کی بیع مراد ہے کہ ظاہر چیز کا اچھا ہو اندرون خراب،اس صورت میں خیار عیب ملے گا۔پھل پکنے سے مراد پھل قابل نفع ہونا ہے لہذا جو چیزیں گدر ہو کر استعمال کی جاتی ہیں ان کی گدر کی بیع جائز ہے۔اور جو چیز یں کچی بھی کام آتی ہیں ان کی کچی کی بیع بھی درست ہے،آم کچے گدر فروخت کیے جاسکتے ہیں،مٹر کی پھلیاں کچی بھی سبزی کے طور پر کام آتی ہیں ان کی کچی کی تجارت درست ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2865