Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2842

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَلَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حقٍ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو بعت من أخيك ثمرا فأصابته جائحة فلا يحل لك أن تأخذ منه شيئا بم تأخذ مال أخيك بغير حق . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اگر تم اپنے کسی بھائی کے ہاتھ پھل بیچو ۱؎پھر ان پر کوئی آفت آن پڑے تو تمہیں یہ حلال نہیں کہ اس سے کچھ بھی لو تم اپنے بھائی کا مال ناحق کیسے لے سکتے ہو ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎بھائی فرمانا مہربان بنانے کے لیے ہے ورنہ مسلمان کے ہاتھ باغ بیچے یا کافر کے ہاتھ حکم یہ ہی ہے جو آگے آرہا ہے یہ تقاضاء انسانیت ہے۔
۲
؎اگر قبضہ دینے سے پہلے پھل برباد ہوگئے تب تو ازروئے فتویٰ بائع کو قیمت لینا حرام ہے کہ جب خریدار کو کچھ دیا ہی نہیں تو قیمت کس کی لے رہا ہے اور اگر قبضہ دینے کے بعد ہلاک ہوئے تو ازروئے تقویٰ قیمت لینا حلال نہیں یعنی ٹھیک نہیں ایسے موقعہ پر رعایت کرنی چاہیے۔امام شافعی فرماتے ہیں کہ فرمان عالی شان ڈرانے دھمکانے کے لیے ہے یا حدیث میں وہ صورت مراد ہے کہ پھل درستی سے پہلے فروخت کیے پھر وہ ضائع ہوگئے تو چونکہ وہ بیع ہی درست نہ تھی لہذا قیمت کیسی۔حضرت امام مالک کے ہاں رسیدہ پھل بھی ہلاک ہوجانے پر قیمت واپس کرنا واجب ہے،وہ اس حدیث سے ظاہری معنی پر عمل کرتے ہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2842