Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2838

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ، شَكَّ دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أرخص في بيع العرايا بخرصها من التمر فيما دون خمسة أوسق أو في خمسة أوسق، شك داود بن الحصين (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بیع عرایا میں اجازت دی کہ پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق تک درخت کے پھل اندازًا چھوہاروں کے عوض بیچ دے ۱؎داؤد ابن حصین نے شک کیا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اوسق وسقکی جمع ہے،وسق وہ پیمانہ ہے جس میں ساٹھ صاع پھل سماتے ہیں،ایک صاع قریبًا ساڑھے چار سیر ہوتا ہے،چونکہ باغ والے فقراء کو ایک دو درخت ہی عاریۃً دیا کرتے تھے جس میں اندازًا اتنی ہی کھجوریں ہوتی تھیں اس لیے اتنی ہی کی اجازت دی گئی۔
۲
؎یعنی اس حدیث کے اسناد میں داؤد ابن حصین بھی ہیں،عمرو ابن عثمان ابن عفان کے آزاد کردہ غلام،محدثین نے ان کے بارے میں اختلاف کیا،ابن معین کہتے ہیں وہ ثقہ تھے دیگر محدثین کے نزدیک غیر ثقہ،ابو حاتم کہتے ہیں کہ یہ تھے تو ضعیف مگر چونکہ امام مالک نے ان سے روایت لے لی اس لیے قوی ہوگئے۔(اشعہ)یعنی داؤد ابن حصین کو یاد نہ رہا کہ ان کے شیخ نے پانچ وسق فرمائے یا اس سے کم۔ حق یہ ہے کہ بیع عریہ پانچ وسق سے کم میں جائز ہے پانچ میں ناجائز اور یہ بیع صرف فقراء کریں امیر نہ کریں۔(مرقات و اشعہ) یہاں ایک فقہی معمہ بن جاتا ہے،بتاؤ وہ کون سی بیع ہے جو فقیر کرے امیر نہ کرے،وہ بیع عریہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2838