Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2856

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن عسب الفحل. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت سے منع فرمایا ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎عسبجانور کے نطفہ کو بھی کہتے ہیں اور نر کے مادہ پر چوٹ کرنے کو بھی اور اس عمل کی اجرت کو بھی،یہاں تمام معنے درست ہیں۔ یہ اجرت اکثر فقہاء کے ہاں حرام ہے،بعض نے جائز مانا ہے خلا ف مستحب تاکہ نسل منقطع نہ ہوجائے کہ بغیر اجرت کے نر والے اس پر راضی نہ ہوں گے تو نسل ہی ختم ہوجائے گی،اگر نر کو عاریۃً لے کر مادہ پر چوٹ کرائی گئی پھر بطور ہبہ نر والے کو کچھ دے دیا گیا یا خود نر کو کچھ کھلا دیا گیا تو بالاتفاق جائز ہے۔(لمعات و مرقات)ممانعت کی وجہ جہالت ہے کہ نہ معلوم نر کتنی بار چوٹ کرے اور نہ معلوم کہ مادہ حا ملہ ہو کہ نہ ہو،پنجاب میں بھینس کو تیار کرانے کی اجرت دو رپیہ ایک بار چھوڑنے کی لیتے ہیں،اس بار میں کتنے ہی بار جست کرے ایک بار یا دو بار۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2856