Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2840

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتّٰى تَزْهٰى قِيلَ: وَمَا تَزْهَى؟ قَالَ: حَتّٰى تَحْمَرَّ، وَقَالَ: "أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللّٰهُ الثَّمَرَةَ، بِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ؟ ". (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الثمار حتى تزهى قيل: وما تزهى؟ قال: حتى تحمر، وقال: "أرأيت إذا منع الله الثمرة، بم يأخذ أحدكم مال أخيه؟ ". (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے پھلوں کی تجارت سے منع فرمایا حتی کہ وہ رنگ پکڑلیں ۱؎عرض کیا گیا کہ رنگ پکڑنا کیا ہے فرمایا سرخ ہو جائیں فرمایا بتاؤ اگراللّٰهتعالٰی پھل روک لے تو تم سے کوئی اپنے بھائی کا مال کس کے عوض لے گا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎صحیح یہ ہے کہتَزْھِیَ،ضَرَبَ یَضْرِبُ،کا واحد مؤنث ہے نہ کہ باب افعال کازھا یزھیعرب میں مستعمل ہے،نخل مذکر بھی ہے مؤنث بھی اس لیے اس کے صیغے مؤنث مذکردونوں آتے ہیں،قرآن شریف میں ایک جگہ ہے"نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ"دوسری جگہ ہے"نَخْلٍ مُّنۡقَعِرٍزھی یزھیزیادہ مستعمل ہےزھی یزھوکم۔۲؎ظاہر یہ ہے کہ یہ سوال حضور انو ر صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے کیا گیا اور جواب سرکار عالی نے دیا،حضرت انس اس سوال و جواب کہ ناقل ہیں،ممکن ہے یہ سوال حضرت انس سے کیا گیا ہو اور آپ نے یہ جوابًا تقریر فرمائی ہو۔خلاصہ یہ ہے کہ پھل سرخ پڑنے سے پہلے خطرہ میں ہیں،آفات سے برباد ہوسکتے ہیں بربادی کی صورت میں بائع خریدار سے قیمت کس چیز کے عوض لے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2840