Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2854

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ وَعَنْ بَيْعِ الغَرَرِ.رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي هريرة قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الحصاة وعن بيع الغرر.رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے پتھر پھینکنے کی بیع ۱؎اور دھوکے کی بیع سے منع فرمایا ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎پتھرپھینکنے کی بیع کی تین صورتیں ہیں:ایک یہ کہ زمین کا خریدار مالک زمین سے کہے کہ میں پتھر پھینکتا ہوں جہاں میرا پتھر گرے وہاں تک کی زمین بعوض پانچ سو روپیہ میری ہوگئی یہ ممنوع ہے۔دوسرے یہ کہ دکان پر مختلف چیزیں رکھی ہیں خریدار کہے کہ میں کنکر پھینکتا ہوں جس چیز پر کنکر لگ جائے وہ دو روپیہ کے عوض میری ہے۔تیسرے یہ کہ تاجر کہے میں کنکر پھینکتا ہوں جس چیز پر لگے وہ دو روپے کے عوض تیری یہ سب جاہلیت کی بیع تھیں،چونکہ ان میں دھوکا ہے اس لیے ممنع ہے۔
۲
؎غرریا توغَرہبالفتح سے بمعنی مجہول الانجام چیز یعنی خطرناک یاغِرہبالکسر سے بنا بمعنی دھوکا،اسی سے غرور ہے۔بیع غرور کی بہت صورتیں ہیں:بیع منابذہ اور پتھر پھینکنے کی بیع وغیرہ بھی اس میں داخل ہیں،دریا میں مچھلی، ہوا میں اڑتے ہوئے پرندے ،بھاگے ہوئے غلام کی بیع سب بیع غرر ہیں۔ امام شافعی کے ہاں یہ بیع فاسد ہیں ہمارے ہاں کبھی فاسد،کبھی باطل۔خیال رہے کہ ہمارے ہاں فاسد وباطل بیع میں فرق ہے کہ بیع فاسد سے بعد قبضہ ملک حاصل ہوجاتی ہے،بیع باطل میں کبھی ملک حاصل نہیں ہوتی مگر امام شافعی کے ہاں دونوں بیعیں ایک ہی ہیں،اس کی مفصل بحث کتب فقہ میں ملاحظہ فرمایئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2854