Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2862

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتّٰى يَسْوَدَّ وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتّٰى يَشْتَدَّ هٰكَذَا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ عَنْ أَنَسٍ. وَالزِّيَادَة الَّتِي فِي "الْمَصَابِيحِ" وَهُوَ قَولُهٗ: نَهٰى عَنْ بَيْعِ التَّمْرِ حَتّٰى تَزْهُوَ، إِنَّما ثَبَتَ فِي رِوَايَتِهِمَا: عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهٰى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتّٰى تَزْهُوَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

وعن أنس قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع العنب حتى يسود وعن بيع الحب حتى يشتد هكذا . رواه الترمذي وأبو داود عن أنس. والزيادة التي في "المصابيح" وهو قوله: نهى عن بيع التمر حتى تزهو، إنما ثبت في روايتهما: عن ابن عمر قال: نهى عن بيع النخل حتى تزهو وقال الترمذي: هذا حديث حسن غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے انگور فروخت کرنے سے منع فرمایا حتی کہ سیاہ پڑ جائیں اور دانوں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ سخت پڑ جائیں ۱؎(ترمذی)ابوداؤد نے یوں ہی روایت کی ان دونوں کے ہاں حضرت انس کی روایت سے یہ نہیں ہے کہ چھوہاروں کی فروخت سے منع فرمایا تا آنکہ سرخ پڑ جائیں مگر حضرت عمر کی روایت سے فرماتے ہیں کہ حضور نے چھوہاروں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ سرخ ہوجائیں ۲؎اور ترمذی و ابوداؤد نے حضرت انس سے روایت کی اور وہ زیادتی مصابیح میں ہے یعنی حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا فرمان کہ چھوہاروں کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ سرخ ہو جائے یہ ان دونوں کی روایت میں حضرت ابن عمر سے ہے فرماتے ہیں کھجور کی تجارت سے منع فرمایا تا آنکہ سرخ پڑجائیں۳؎ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎پھلوں کی تیاری مختلف صورتوں سے معلوم ہوتی ہے۔چنانچہ دانے والے سیاہ انگور کی تیاری اس پر سیاہی جھلکنے سے معلوم ہوتی ہے اور دانوں کی تیاری سختی سے محسوس ہوتی ہے کہ چٹکی میں دبانے سے سخت معلوم دے،ان علامات سے قبل نہ تو انگور قابل نفع مال ہے نہ دانے،ان کی بیع جائز نہیں کیونکہ بیع میں دو طرفہ مال چاہیے اور یہ دونوں چیزیں اس وقت مال نہیں۔
۲
؎یہ صاحب مصابیح امام بغوی پر اعتراض ہے کہ انہوں نے بحوالہ ترمذی و ابوداؤد حضرت انس کی روایت میں یہ جملہ بھی شامل کیا، حالانکہ یہ جملہ حضرت ابن عمر کی روایت میں ہے نہ کہ حضرت انس کی۔
۳
؎یہ امام بغوی پر دوسرا اعتراض ہے کہ انہوں نے حضرت انس کی روایت میںعَنْ بَیْعِ التَّمَرِنقل کیا،حالانکہ یہ روایت عبداللّٰه ابن عمر کی ہے اس میں بھیعَنْ بَیْعِ النَّخْلِہے نہ کہعَنْ بَیْعِ التَّمَرِ۔خلاصہ حدیث یہ ہوا کہ کسی پھل کی بیع اس کی تیاری اور قابل انتفاع ہونے سے پہلے جائز نہیں اور ہر چیز کے قابل انتفاع ہونے کی علامتیں مختلف ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2862