Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2871

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الإبِلَ بِالنَّقِيعِ بِالدَّنانِيرِ فآخُذُ مَكَانَهَا الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ فَآخُذُ مَكَانَهَا الدَّنَانِيرَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذٰلِكَ لَهٗ فَقَالَ: «لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ والدَّارِمِيُّ

وعن ابن عمر قال: كنت أبيع الإبل بالنقيع بالدنانير فآخذ مكانها الدراهم، وأبيع بالدراهم فآخذ مكانها الدنانير فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال: «لا بأس أن تأخذها بسعر يومها ما لم تفترقا وبينكما شيء» . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں میں نقیع بازار میں اونٹ اشرفیوں کے عوض فروخت کرتا تھا ۱؎پھر اشرفیوں کے عوض درہم لے لیتا تھا اور درہم کے عوض فروخت کرتا تھا پھر ان کے عوض اشرفیاں لے لیتا تھا ۲؎میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے اس کا تذکرہ کیا آپ نے فرمایا اس میں مضائقہ نہیں کہ اس دن کے بھاؤ سے یہ لے لو جب تک کہ تم اس طرح الگ نہ ہو کہ تمہارے درمیان کچھ بقایا ہو۳؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎نقیعنون وق سے،مدینہ منورہ کے قریب ایک جگہ تھی جس میں بازار تھا اور میلہ لگا کرتا تھا اور ایک چرا گاہ کا نام بھی ہے جو مدینہ منورہ سے بیس کوس دور ہے،یہاں پہلے معنی مراد ہیں۔
۲
؎آپ کا یہ عمل اپنے اجتہاد سے تھا آپ نے خیال فرمایا کہ مثلًا درہم ایک دینار ہی ہے اور ایک دینار دس درہم ہی ہیں،درہم کے عوض دینار لینا گویا درہم ہی لینا ہیں۔معلوم ہوا کہ صحابہ کرام زمانہ نبوی میں حضور انور کے پاس رہتے ہوئے بھی اجتہاد کرتے تھے،یہ بھی معلوم ہوا کہ یقین پر قدرت ہوتے ہوئے بھی ظن پرعمل جائز ہے۔(مرقات)
۳
؎یعنی تمہارا یہ عمل دو شرطوں سے جائز ہے:ایک تو درہم و دینار کے موجودہ بھاؤ کا اعتبار ہوگا،ان کے بھاؤ بدلتے رہتے ہیں،ہمارے ہاں بھی ایک زمانہ میں اشرفی پندرہ بیس روپیہ کی تھی،پھر چڑھتے چڑھتے اسی نوے تک پہنچ گئی،دوسری شرط یہ ہے کہ فریقین دونوں بدلوں پر قبضہ کیے بغیر نہ ہٹیں کیونکہ اشرفی کے عوض چاندی کے درہم لینا یا اس کے برعکس بیع صرف ہے اور بیع صرف میں اگر جنسیں مختلف ہوں تو زیادتی جائز مگر ادھار حرام۔غرضکہ اس کو الگ بیع قرار دیا گیا اور اس پر بیع صرف کے احکام جاری کیے گئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2871