Main Icon

باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2872

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْعَدَّاءِ بْنِ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ أَخْرَجَ كِتَابًا: هٰذَا مَا اشْتَرٰى الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرٰى مِنْهُ عَبْدًا أَوْ أَمَةً، لَا دَاءَ وَلَا غَائِلَةَ وَلَا خِبْثَةَ بَيْعَ الْمُسْلِمِ الْمُسْلِمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن العداء بن خالد بن هوذة أخرج كتابا: هذا ما اشترى العداء بن خالد بن هوذة من محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم اشترى منه عبدا أو أمة، لا داء ولا غائلة ولا خبثة بيع المسلم المسلم. رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عداء ابن خالد ابن ہوذہ سے ۱؎انہوں نے ایک تحریر نکالی کہ یہ وہ ہے جو عداء ابن خالد ابن ہوذہ نے محمد رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے خریدا حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے غلام یا لونڈی خریدی جس میں نہ کوئی عیب ہے نہ فساد نہ کوئی خرابی ۲؎مسلمان کی مسلمان سے بیع۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۴؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ قبیلہ بنی ربیعہ سے ہیں،بصرہ کے دیہات میں رہتے تھے،غزوہ حنین کے بعد اسلام لائے،صحابی ہیں مگر آپ سے صرف یہی ایک حدیث منقول ہے۔
۲
؎یعنی اس میں نہ کوئی بیماری ہے جنون،جذام،برص وغیرہ اور نہ کوئی بری عادت زنا،چوری،شراب خواری وغیرہ نہ نفرت والی کوئی چیز جیسے حرامی ہونا وغیرہ۔غائلہ وہ عیب کہلاتا ہے جو کبھی ہلاکت کا باعث بن جائے۔خلاصہ یہ ہے کہ یہ غلام ظاہری اور چھپے ہوئے عیوب سے پاک ہے،اس میں کوئی ایسی خرابی نہیں ہے جس سے خریدار کو خیار عیب ہے۔اس تحریر میں اس جانب اشارہ ہے کہ خریدو فروخت اگرچہ ولی بلکہ نبی سے ہو اس پر شرعی احکام ضرور جاری ہوں گے اور اس قسم کی تحریر اس کی شان کے خلاف نہیں ہوگی،یہ بھی معلوم ہوا کہ قانونًا بیع نامہ تاجر کی طرف سے ہونا چاہیے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلْیُمْلِلِ الَّذِیۡ عَلَیۡہِ الْحَقُّ"لیکن خریدار کی طرف سے بھی خریدنامہ ہوسکتا ہے کہ اس میں بھی احتیاط ہے۔
۳
؎یعنی یہ ایسی خرید و فروخت ہے جیسی مسلمان کی مسلمان سے ہوتی ہے کہ مسلمان اپنے بھائی مسلمان کا خیر خواہ ہوتا ہے،اسے دھوکا نہیں دیتا ورنہ یہ بیع مسلمان کی نبی سے تھی نہ کہ عام مسلمان سے۔خیال رہے کہ نبی لغوی مؤمن و مسلم ہوتے ہیں نہ کہ اصطلاحی، اصطلاح میں تو وہ عین ایمان ہیں کہ ان کو ماننے سے انسان مؤمن بنتا ہے اسی لیے بیع منصوب ہے کہ کاف تشبیہ پوشیدہ ہے۔
۴
؎کیونکہ اس کی اسناد میں عباد ہیں جو ضعیف ہیں،ان کے بارے میں محدثین فرماتے ہیںلَیْسَ بِشَیْئٍ۔خیال رہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ہجرت سے قبل خرید و فروخت دونوں کی ہیں مگر ہجرت کے بعد فروخت بہت کم کی ہے۔(اشعہ و لمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2872